AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ہم آپکو فری اسائنمنٹس دے رہے ہيں براۓ مہربانی ہماری ويب سائٹ کو لائک کريں شکریہ

AIOU Solved Assignments code 608 Spring 2020 Assignment 1& 2  Course: Tadreeb ul mulameen (608)   Spring 2020. AIOU past papers

ASSIGNMENT No:  1& 2
Tadreeb ul mulameen (608)
Spring, 2020

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

qq

 

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 01

صاب کے بنیادی عناصر میں سے ایک اہم عنصرطریقہ ہائے تدریس بھی ہے ۔اساتذہءِ کرام کے لئے لازمی ہے کہ وہ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدیدترین طریقہ ہائے تدریس کوبھی اپنائیں اورموقع کی مناسبت سے اپنی تدریسی حکمت عملی کوبروئے کارلائیں۔

مختلف مواقع پردرست طریقہءِ تدریس کا انتخاب اُستادکی صوابدیدپر ہے۔ کسی ایک موضوع کے لئے ایک طریقہ کارآمدثابت ہو سکتاہے تو دوسرے موضوع کیلئے دوسرا طریقہ موزوں ہوسکتاہے۔ ضروری نہیں کہ سب کوایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے۔چھوٹے اوربڑے بچوں کے لئے مختلف اوقات میں مختلف تدریسی حکمتِ عملیاں اختیار کی جاسکتی ہیں۔

ہمارے اساتذہ جدیدطریقہ ہائے تدریس کواپناکراپنی تدریس میں بہتری لاسکتے ہیں۔اسی سلسلے میں آج ہم THINK-PAIR-SAHRE کے بارے میں وضاحت کریں گے۔اساتذہءِ کرام تھوڑی سی توجہ کے ساتھ اس تیکنیک کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو ان شاء اﷲ بہت آسانی سے اس تیکنیک کو تدریس کے عمل میں اپنانے کے قابل ہوجائیں گے۔

آج کل جدیدترین تدریسی تیکنیکس میں THINK-PAIR-SAHREکافی مشہورہے۔THINK-PAIR-SAHREانگریزی زبان کے تین الفاظ کامجموعہ ہے۔ THINK کامطلب ہے سوچنا ،PAIR کا مطلب جوڑا اورSHAREکامطلب بتانا اورگفتگوکرناہے ۔ THINK-PAIR-SAHRE اشتراکی تدریسی تیکنکس(COLLABORATIVE/COOPERATIVE) میں سے ایک ہے جوطلبہ کی تدریسی عمل میں شرکت کوبڑھاتی ہے اور یہ تدریسی حکمت عملی ہرعمر کے بچوں اورہرجماعت کے لئے مفید ہے۔

THINK-PAIR-SAHRE ایک سرگرمی ہے جوطلبہ کی سیکھنے کے عمل میں مددگارثابت ہوتی ہے۔اس تیکنیک کی بنیاداِس نظریئے پر ہے کہ تدریس کے عمل میں طلبہ کوسرگرمی کے ساتھ شامل کیاجائے تاکہ موئثر تدریس سرانجام پاسکے۔ جب طلبہ کو اپنے ہم جماعت افرادکے گروپ میں کام کرنے کاموقع ملتاہے تو اُس وقت وہ زیادہ انہماک کے ساتھ تدریسی عمل میں شامل ہوتے ہیں ۔

روایتی انداز میں اساتذہ کوطلبہ کی تعلیمی پیش رفت کاجائزہ لینے کے لئے بڑی محنت ومشقت سے کام لیناپڑتاہے۔ عام طورپر اس کام کے لئے تحریری ٹیسٹ وغیرہ کااہتمام کیاجاتاہے ۔ ٹیسٹ کی جانچ پڑتال کے لئے اساتذہ کو بہت زیادہ وقت بھی صرف کرناپڑتاہے۔ THINK-PAIR-SAHREتیکنیک نے اساتذہ کی اس مشکل کوآسان کردیاہے۔اب اساتذہ کرام اس تیکنیک کے ذریعے طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کابآسانی اوربروقت جائزہ لے سکتے ہیں۔

یہ تیکنیک نئے موضوعات کے لئے بھی کارآمدثابت ہوسکتی ہے لیکن خاص طورپر یہ تیکنیک سابقہ پڑھائے گئے اسباق کا جائزہ لینے کیلئے بہت ہی مفید ہے بشرطیکہ اُستاد مہارت کے ساتھ اُسے پایہ ءِ تکمیل تک پہنچائے۔

۲
ذیل میں اس تیکنک کے مراحل بیان کئے جاتے ہیں تاکہ اساتذہ کرام آسانی سے اِسے اپناسکیں ۔

۱۔گروپ بندی:
سب سے پہلاقدم طلبہ کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرنا ہے۔ استاد اس طرح کاگروپ بنائے جس میں طلبہ/طالبات کی تعدادجُفت ہو۔(گروپ چاریاچھ یاآٹھ طلبہ پرمشتمل ہو) اُستاد اپنے اپنے گروپ میں دودوطلبہ پرمشتمل جوڑے بھی بنادے۔طلبہ/طالبات کو اپنے ساتھی اور اپنے گروپ سے متعلق کوئی ابہام نہ رہے۔
۲۔ تفویضِ کار:
اب استاد طلبہ کوہدایات دیتے ہوئے کہے گا : کل جو سبق ہم نے اس جماعت میں پڑھاتھا اُس کے بارے میں اپنے اپنے ذہن میں سوچیں۔ اس دوران کوئی طالب علم کسی دوسرے ساتھی سے کوئی بات نہ کرے۔ اس موضو ع کے بارے میں سوچنے کیلئے وقت ایک منٹ ہے۔
مقررہ وقت کے بعد استاد کہے گا : جوکچھ آپ نے اپنے ذہن میں سوچاتھااُس کے بارے میں اپنے اپنے ساتھی سے تبادلہ ءِ خیال کریں ۔ اس کام کے لئے آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں۔
مقررہ وقت کے اختتام کے بعد استاد تمام طلبہ کوخاموش کرواکرنئی ہدایات دیتے ہوئے کہے: اب تمام طلبہ اپنے ساتھی سے تبادلہ کی گئی باتوں کو اپنے گروپ کے باقی ممبران کوبتائیں۔ ہر طالبِ علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گروپ میں اپنی معلومات SHAREکرے۔ گروپ میں SHARINGکے لئے آپ کے پاس پندرہ منٹ ہیں۔
۳۔ جائزہ:
آخر میں طلبہ کی کارکردگی کاجائزہ لینے کے لئے اُستاد سوال جواب یا کسی دوسرے طریقے کواپنائے گا۔اس عمل کے لئے پِریڈکا بقیہ وقت صرف کیاجاسکتا ہے۔ جس گروپ کے تمام ممبران نے سرگرمی سے حصہ لیاہوگااُن کی کارکردگی دوسروں سے نمایاں ہوگی۔
اس تیکنیک کو THINK-PAIR-SAHREکے نام سے اس لئے جاناجاتاہے کہ اس میں طلبہ سب سے پہلے اکیلے THINKکرتے ہیں ،اس کے بعد اپنے PAIRسے گفتگوکرتے ہیں اورآخر میں اپنے گروپ سےSAHREکرتے ہیں۔ اس تیکنیک کاشمارCOLLABORATIVE/COOPERATIVE تدریسی تینیکس میں ہوتاہے کیونکہ اس میں اپنے ساتھی اورگروپ کے ساتھ تبادلہء خیالات بھی کیاجاتاہے۔

اُستاد کاکردار:
اس سارے عمل کی نگرانی ورہنمائی کاذمہ داراُستاد ہوگا۔ اُستاد ایک سہولت کنندہ کے طورپرکرداراداکرے گا۔ اگرکسی مرحلہ پر اُستاد نے غفلت یاکوتاہی سے کام لیاتوسارامعاملہ تلپٹ ہوکررَہ جائے گا۔اُستاد کسی بھی مرحلہ کے لئے دئیے گئے وقت میں حسب ضرورت کمی بیشی کرنے کااختیاررکھتاہے۔ اس سارے عمل میں سب سے اہم کام طلبہ کوہدایات جاری کرنا، ہرسرگرمی کے لئے مقرر کردہ وقت کوملحوظِ خاطررکھنا،طلبہ /طالبات کواپنے مقصدپرقائم رکھنے کے لئے چوکنا رہنا اور آخر پر جدیدطریقے استعمال میں لاتے ہوئے طلبہ کی کارکردگی کاجائزہ لینا ہے۔ بظاہریہ طریقہ تدریس مشکل نظرآتاہے لیکن ہے نہایت ہی دلچسپ اورآسان۔میں نے جب بھی اِس جدیدطریق کو جماعت میں اپنایاتو مجھے اِس کے اچھے نتائج حاصل ہوئے۔ میری تمام اساتذہ کرام سے گُزارش ہے کہ جدیددور کے تقاضوں کے مطابق اپنے طریقہ ہائے تدریس میں بہتری لائیں اور روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدیدطریقوں کو بھی اپنائیں اوراپنے کرداراورعمل سے ثابت کردکھائیں کہ آج کااُستادپہلے سے زیادہ اچھے طریقے سے ملک وقوم کی تعمیر وترقی کے عمل میں نمایاں کرداراداکررہاہے۔ اگرایساکرلیاجائے تویقین مانیں آج بھی اُستاد کووہی عزت واحترام حاصل ہوسکتا ہے جو ہمارے اسلاف کونصیب تھا۔ ہمارے اساتذہ کرام آج بھی اقبالؒ کے اِس قول کی عملی تصویر پیش کرسکتے ہیں:
شیخِ مکتب ہے اِک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 02

دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا ہے بلکہ زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیزہ اصول اور فطری نظام پیش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا، اس نے ہمیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی ۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا سبب ہے پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے نہیں بتلاتا، یہ بھی ہمیں بتلادیا۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں برائی فیشن اوربے حیائی عام سی بات ہوگئی ہے ۔اللہ نے ہمیں کفر وضلالت سے نجات دے کر ایمان وہدایت کی توفیق بخشی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنا قدم بڑھانے سے پہلے سوچنا ہےکہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہورہی ہے ، ہرہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہے۔
پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتا ہے تو اسے فطری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے ۔ نکاح سے انفرادی اور سماجی دونوں سطح پہ فساد وبگاڑ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے ۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں جہاں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتہ نظر آتا ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےہیں ، پاکیزہ تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پردہ اٹھ جاتا ہے گویا دونوں ایک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کا بندوں پر بڑا احسان ہے ۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں ہمبستری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیزہ نظام دیا ہے اسی طرح جماع کےبھی صاف ستھرےرہنما اصول دئے ہیں ، ان اصولوں کی جانکاری ہر مسلم مردوخاتون پر ضروری ہے ۔سطور ذیل میں جماع کا طریقہ اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررہاہوں۔
یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا ہوگا ، اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ (البقرة:223)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جس طرح سے چاہیں جماع کرسکتے ہیں ، شوہر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حلال ہے اور پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے چنانچہ اس بات کو اللہ نے اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:222)
ترجمہ:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
یہاں پر اللہ حکم دے رہا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع نہ کرو اور جب حیض سے پاک ہوکر غسل کرلے تواس کے ساتھ اس جگہ سے جماع کرو جس جگہ جماع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ حیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع ہےا ور جب حیض بند ہوجائے تو اسی جگہ جماع کرنا ہےجہاں سے خون آرہا تھا۔
” نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ” کی تفسیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی :(نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ)أي مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستَلقِياتٍ يعني بذلِكَ مَوضعَ الولَدِ(صحيح أبي داود:2164)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو یعنی خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے خواہ لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس ہی سے مروی ہے ۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أقبِلْ وأدبِرْ، واتَّقِ الدُّبرَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو خواہ بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرومگر پچھلی شرمگاہ سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پرفتن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی یہ بات جاننی چاہئے اور اسے ہی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے ، جولوگ فحش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے ہیں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی ہے ،لمحہ بہ لمحہ بے حیائی کی راہ چلنے لگتا ہے۔یاد رکھیں ، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجمہ: اور(بیوی سے جماع کرتے ہوئے) تمہارے عضو میں صدقہ ہے۔صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:بتاؤاگر وہ یہ(خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔

اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل ذکر کئے جاتے ہیں ۔
(1) بیوی سے جماع عفت وعصمت کی حفاظت ، افزائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے ہو، ایسی صورت میں اللہ نہ صرف جماع پہ اجر دےگا بلکہ نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔
(2) جماع شہوت رانی نہیں ہے بلکہ زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں ہے ،اس لئے قبل از جماع شوہر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے ۔
(3) جماع سے قبل یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : بسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وجَنِّبِ الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں شیطان سے علیحدہ رکھ اور تو جو اولاد ہمیں عنایت فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ “پھر اگر انھیں بچہ دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگہ آواز سننے والا اور دیکھنے والا کوئی نہ ہو یعنی ڈھکی چھپی جگہ ہواور جماع کی حد تک شرمگاہ کھولنا کافی ہے تاہم ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل برہنہ ہونا آپس میں جائز ہے ، جس حدیث میں مذکور ہے کہ جماع کے وقت بیوی کی شرمگاہ دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق ہوتی ہے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث قراردیاہے۔ اوراسی طرح وہ ساری احادیث بھی ضعیف ہیں جن میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگاہ نہیں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روزہ جماع ممنوع ہے ،باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے ہیں ۔حالت حیض اور حالت نفاس میں صرف جماع کرنا منع ہےمگر جماع کے علاوہ بیوی سے لذت اندوز ہونا جائز ہے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصف دینا صدقہ کرنا ہوگا ساتھ ہی اللہ سے سچی توبہ کرے تاکہ آئندہ اللہ کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب نہ کرے ۔یہی حکم نفاس کی حالت میں جماع کا ہے البتہ صحیح قول کی روشنی میں مستحاضہ سے جماع کرنا جائز ہے۔
(6)دوران حمل بیوی سے جماع کرنا جائز ہے تاہم شوہر کو اس کنڈیشن میں ہمیشہ بیوی کی نفسیات ، صحت اور آرام کا خیال رکھنا چاہئے ۔ حمل کی مشقت بہت سخت ہے ، قرآن نے اسے دکھ پر دکھ کہا ہے ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شوہر کومنع کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا حمل کے آخری ایام کافی دشوار گزار ہوتے ہیں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت ہوسکتا ہے ۔
(7)مطلقہ رجعیہ کی عدت میں جماع کرنا رجعت ہے کہ نہیں اس پہ اہل علم میں مختلف اقوال ہیں ، ان میں قول مختار یہ ہے کہ اگر شوہر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا ہے تو رجوع ثابت ہوگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع نہیں ہوگا مثلا شہوت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع کے دوران شہوت کی باتیں کرنے سے متعلق سوال کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نہ ہی عیب کی بات ہے ، ہاں فحش اور بے ہودہ باتیں جس طرح عام حالات میں ممنوع ہیں اسی طرح دوران جماع بھی ممنوع ہوں گی ۔
(9)جماع سے قبل شہوت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان دہ ہے لہذا اس چیز سے اجتناب کریں ،ہاں کسی آدمی میں جنسی کمزوری ہو تو ماہر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
(10) بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کرنا حیض ونفاس سے پاکی کی حالت میں جائز ہے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار ہونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاہ چھونا یا دیکھنا جائز وحلال ہے ۔ پھر اگلی شرمگاہ میں جماع کے لئے جو کیفیت وہیئت اختیار کی جائے تمام کیفیات جائز ہیں ۔ یاد رہے جماع کی خواہش بیدار ہونے اور اس کا مطالبہ کرنے پر نہ شوہربیوی سے انکار کرے اور نہ ہی بیوی شوہر سے انکار کرے ۔
(11) شوہر کے لئے بیوی کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے چومنا بے حیائی ہے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے چومنا اور منہ میں داخل کرنا بے حیائی ہے ۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ عورت کی شرمگاہ چومنا اور منہ سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرفطری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راستہ اختیار کرنا ہے ، مومن ہر کام میں حیا کا پہلو مدنظر رکھتا ہے ۔ عموما شوہر اپنی بیوی کو غیرفطری طریقہ مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ایسی عورت کے سامنے عہد رسول کی اس انصاری عورت کا واقعہ ہونا چاہئے جس کے قریشی یعنی مہاجرشوہر نے اس سے اپنے یہاں کے طریقہ سے مباشرت کرنا چاہاجوانصاری کے یہاں معروف نہ تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور کہا ہم صرف ایک ہی انداز سے جماع کے قائل ہیں لہذا وہی طریقہ اپناؤ یا مجھ سے دور رہو ۔یہاں تک کہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ) نازل ہوئی جس کی تفسیر اوپر گزرچکی ہے۔ واقعہ کی تفصیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتاہے،وہ ملعون ہے(صحیح ابی داؤد:2162)۔لہذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقہر الہی کا سزاوار نہ بنائے ۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ فورا رب کی طرف التفات کرے اور اللہ سے توبہ کرکے گناہ معاف کرالے۔جہاں تک لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
(14) ایک ہی رات میں دوبارہ جماع کرنے سے پہلے اگر میسر ہو تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبارہ جماع کرسکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت فرماتے تھے ۔
(15) مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے منی کا انزال ہو یا نہ ہو۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا ہے تاہم فجر سے پہلےیا جو وقت ہواس نماز کے واسطے غسل کر لےتاکہ بلاتاخیر وقت پہ نماز پڑھ سکے ۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ، بات چیت،کھاناپینا سب جائز ہیں حتی کہ سحری بھی کھاسکتے ہیں۔
(16)جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے ،جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں ۔
(17) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وقفہ کرنے کی نیت سے جماع کرتے ہوئے منی شرمگاہ کے باہر خارج کرنا جائز ہے ، شوقیہ ایسا کرنے سے بہرصورت بچنا چاہئے کیونکہ نکاح کا اہم مقصد افزائش نسل ہے۔
(18) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع فرمایا ہے ۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چاہئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے ہیں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے ہیں ۔ نعوذباللہ کتنے ملعون ہیں فحش ویڈیوز بنانے ، پھیلانےاوردیکھنے والے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا ، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ ، فيقولَ : يا فلانُ ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
ترجمہ:میری تمام امت و معاف کردیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 03

النَّبْرُ في  تجويد القرآن أو  علم الصوتيات ظاهرة صوتية دقيقة تهدف إلى إبراز الصوت على مقطع من الكلمة وهو أشيع في اللغات الغربية منه في العربية، بحيث يمكن أن يتغير معنى الكلمة في تلك اللغات بتغير موقع النبر، بينما في العربية لا يغير النبر المعنى لكنه قد يساعد السامع على الفهم.

نبر الجـُمَل أو السياق

وهو أن يميّز المتكلم – أثناء كلامه – كلمة (برمّتها) ، فيزيد من نبرها، للإشارة إلى غرض خاص؛ فمثلا: (هل سافر أخوك؟) فحين نَنْبر في كلمة (سافر) في هذه الجملة؛ ربما يكون المعنى أنّ المتكلم يشك في حدوث السفر من أخي السامع، أما إذا ضغطنا على كلمة (أخوك) فُـهم من الجملة أننا لا نشكّ في السفر، إنما الذي نشك فيه هو المسافر نفسه، فربما كان أباه أو عمَّه أو غيرهما – لا أخاه. وأما إذا ضغطنا في كلمة (أمس) فُهم من الجملة أن الشك في تاريخ السفر.

موقع النبر في الكلمات والجمل

لا تكاد تخلو من النبر جميع اللغات، ولكن ينبغي أن نعلم أنّ هناك اختلافات في مواقع النبر في مقاطع كلمات هذه اللغات، فبعضها يخضع نبر كلماتها لقواعدَ معيّنة كاللغة العربية مثلا، وبعضها يقع النبر في المقطع الأخير من كلماتها دائما؛ كاللغة الفرنسية، كما يقع في المقطع الأول لكلمات بعضها كاللغة التشيكية، ومنها ما لا يخضع النبر فيها لأية قاعدة، بل يُحفظ الموقع لكل كلمة على حدة؛ كما في اللغة الإنكليزية.

فمعرفة مواقع النبر – إذن – له أهمية كبيرة، وخاصة في اللغات الضاغطة كاللغة الإنكليزية، حيث يمكن اضطراب المعنى في هذه اللغة بمجرد تغيير موقع النبر في مقطع من مقاطع الكلمة؛ فإذا نبرت في أولها دلّت على شيء، وإذا نبرت في مكان آخر دلّت على معنى آخر؛ فمثلا الكلمات: Torment, Agument، لا فرق بينهما إلا في اختلاف موضع النبر. وأما بخصوص لغات غير ضاغطة كالعربية الفصحى مثلا، فقد يرى محمد الأنطاكي أنّ النبر في مقاطع كلماتها لا يغيّر معناها، اللهم إلا في نبر الجمل، فإنه كثيرا ما يدل على الرغبة في التأكيد أو الإشارة إلى غرض خاص، كما مثلنا سابقا.

درجات النَّبر

وِفقا للبروز والوضوح السمعي فإن للنبر درجتين، وهما:

  • النّبر الرئيسي، أو الأولي: وهو يقع على المقطع الأخير في الكلمة، مثل: انطلاق، استقال؛ أو ما قبل الأخير في الكلمة، مثل: حزب، علم. وهناك الذي يسبق ما قبل الأخير، إذا كان واقعا مع ما قبله في مثل: علَّمَكْ.
  • النّبر الثانوي: فهو يوجد في الكلمات المتكونة من مقطعين فأكثر، فهو يقع على المقطع الذي يسبق المنبور نبرا أوليا، إذا كان الصوت المنبور نبرا ثانويا طويلا، نحو (ولا الضالين)؛ والمقطع السابق للمقطع المنبور، ويليه مقطع منبور نبرا أوليا، نحو: (علّمناه)؛ والمقطع المنبور نبرا أوليا، تكون نسقا أصواتيا، نحو: (ما عرفناهم).

النبر في العربية الفصحى

يظهر الفرق بين هذه اللغات هو استعمال النبر مَلمحا تمييزيا أو ملمحا غير تمييزي. وقد أثبت معظم العلماء وجود النبر في الكلمات العربية القديمة، إلا أنّ معرفة حالته في ذلك الوقت، أو معرفة أماكنه المحدَّدة في مقاطع الكلمات هو المعدوم؛ وسبب ذلك – كما ذكر إبراهيم أنيس ومحمد الأنطاكي – هو عدم تعرض أحد من المؤلفين القدماء لهذا الموضوع، وهذا الإغفال ناشئ عن عدم شعورهم بأي أثر للنّبر في تحديد معاني الكلمات العربية. وذهب العلماء إلى أنّ نبر الكلمة في العربية الفصحى ليس له أثر في تحديد المعنى. وهناك أمثلة كثيرة طرحها أحمد المختار عمر، للمناقشة والبحث في ذات الموضوع والتي نلتمس- من خلالها– كيف يؤثر النبر في تحديد معاني كلمات العربية الفصحى، ومن هذه الأمثلة، قولهم: (كريم الخلق) – (كريموا الخلق) فالتمييز بين المفرد والجمع– هنا- كان بوضع النبر (مع المفرد) على المقطع الأول، و(مع الجمع على المقطع الثالث).

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 04

مختلف زبانوں کے الفاظ آپس میں ایک دوسری زبان میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اردو زبان بھی کئی زبانوں کے الفاظ کا ایک خوش نما مرقع ہے۔ اس کے الگ تشخص اور پہچان کی وجہ اس کا الگ رسم الخط ہے، جو اگرچہ عربی اور فارسی سے لیا گیا ہے لیکن ان دو زبانوں میں برصغیر پاک و ہند کی مقامی بولیوں کے حروف کا اضافہ کر کے ایک الگ رسم الخط وجود میں آیا ہے، جس سے اردو کی انفرادیت قائم ہوئی ہے۔ ورنہ کہا جاسکتا ہے کہ وسط ایشیا کی مسلمان قوموں اور پاک و ہند کی اقوام نے اپنی سیاسی اور کاروباری سہولتوں کے لیے ایک دوسرے کے الفاظ کو اپنا لیا اور کہیں کہیں اپنے اصلی لب و لہجہ میں کچھ تبدیلیاں کر لیں تو قدیم زبان سے الگ تھلگ ایک بولی وجود میں آگئی۔ ان عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی الفاظ کو ان میں سے کسی بھی قدیم زبان کے حروف میں لکھنا ممکن نہیں تھا۔

موجودہ دور میں دیونا گری رسم الخط میں لکھی جانے والی زبان کو ہندی اور فارسی رسم الخط والی زبان کو اردو کہا جاتا ہے۔ کم و بیش پچاسی فی صد الفاظ کے اشتراک کے باوجود دو مختلف رسم الخط ہونے کی وجہ سے یہ دو زبانیں قرار پائی ہیں۔ اب نہ جانے ایک ہی زبان (اردو) کو بیک وقت اردو اور انگریزی حروف میں لکھ کر اسے کس قسم کی ترقی کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ ہاتھ سے کتابت کرنے والے اکثر خود بھی حرف شناس ہوا کرتے تھے اور پھر مسلسل مشق اور تجربے کی وجہ سے ان کے ہاں ہجوں اور املا کی غلطی کا امکان بہت کم ہوتا تھا۔ اب کمپیوٹر کے تختۂ حروف (Key board) پر انگلیاں چلانے والے جب دھڑا دھڑ اردو الفاظ کے غلط ہجے لکھ رہے ہیں تو ان سے انگریزی کے صحیح ہجوں کی توقع بالکل عبَث ہے۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی انگریزی لفظ ایک صفحہ پر تین بار لکھا گیا ہو تو وہ تین مختلف ہجوں میں ہو گا۔

برصغیر پاک و ہند میں بہت سی علاقائی زبانیں بھی ہیں جن کے الفاظ اردو میں مستعمل ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ ان زبانوں کا اپنا اپنا رسم الخط بھی ہے۔ اگر کوئی لکھنے والا کسی مخصوص زبان کے علاقے کی تاریخ و تہذیب یا وہاں کی سیر و سیاحت کے بارے میں اردو زبان میں کچھ لکھے تو فطری امر ہے کہ وہ حسبِ ضرورت کچھ علاقائی الفاظ یا اصطلاحیں بھی استعمال کرے گا۔ اس طرح اگر ہر خطہ یا زبان کے الفاظ کو اردو میں لکھتے وقت انھیں اپنے علاقائی رسم الخط میں لکھا جائے تو پھر اردو کے پاس اپنا کیا رہ جائے گا؟ اگر جاپانی اور چینی مصنوعات کے نام اردو حروف میں لکھنے کے بجائے اردو جملہ میں بھی ان کے اصل (جاپانی یا چینی) حروف میں لکھ دیے جائیں، روس کی سیاحت کے بعد کوئی صاحب وہاں کے شہروں یا لوگوں کے نام روسی حروف میں لکھ کر اردو زبان میں ایک اور سفرنامے کا اضافہ کرنے کا شوق پورا کر لیں تو کیا یہ اردو قارئین پر ظلم نہیں ہو گا۔ ایسی صورت میں وہ کون علامہ ہو گا جو زبان دانی کا دعویٰ کر سکے گا۔

اردو میں ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ کا استعمال

اردو میں ’’ہ‘‘ ہائے ہوز اور ’’ھ‘‘ ہائے دو چشمی کو لکھتے وقت اکثر گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ اردو کی پرانی تحریروں میں ’’ھ‘‘ کا استعمال کم تھا اور ہندی الاصل الفاظ ’’بھول، پھول، تھال، کھانا، دکھ، سکھ، سنگھ‘‘ وغیرہ کو عموماً ’’ہ‘‘ سے لکھا جاتا تھا اور ان کی صورت ’’بہول، پہول، تہال، کہانا، دکہہ، سکہہ، سنگہہ‘‘ ہوتی تھی۔ اب صورت حال بہت بہتر ہو گئی ہے۔ غالباً انیسویں صدی کے آخری چند عشروں میں اردو اخبارات کے عام چلن کی وجہ سے ’’ہ‘‘ کی بجائے ’’ھ‘‘ کا استعمال عام ہو گیا۔ اب املا کا یہ ابہام کافی حد تک ختم ہو گیا ہے اور الفاظ کو زیادہ تر درست لکھا جاتا ہے۔ اس لیے ’’بہاری‘‘ اور ’’بھاری‘‘، ’’پہاڑ‘‘، اور ’’پھاڑ‘‘، ’’دہرا‘‘ اور ’’دھرا‘‘ اور ’’دہن‘‘ اور ’’دھن‘‘ لکھتے اور پڑھتے وقت اِن میں امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی تک بہت سے الفاظ مثلاً ’’انھوں، انھیں، تمھارا، تمھیں، چولھا، دولھا، دلھن‘‘ وغیرہ کو ہائے ہوز سے ہی یعنی ’’انہوں، انہیں، تمہارا، تمہیں، چولہا، دولہا، دلہن‘‘ لکھا جاتا ہے اور اسے عام طور پر غلط سمجھا بھی نہیں جاتا۔

دراصل ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک ہی نام دینے کی وجہ سے ایک بہت بڑا مغالطہ در آیا ہے کہ شاید یہ ایک ہی حرف ہے یا دونوں ایک دوسرے کے مترادف و متبادل ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ قدیم ماہرینِ لسانیات کا یہ تصور ہے کہ اردو میں بھاری یا سخت آوازوں والے حروف ’’بھ، پھ، تھ، کھ‘‘ وغیرہ مرکب حروف ہیں۔ یعنی ب+ہ= بھ، پ+ہ= پھ، ت+ہ= تھ، ک+ہ= کھ۔ اسی لیے آج تک بچے کو جب اردو حروف تہجی کا ابتدائی تعارف کرایا جاتا ہے تو مروجہ قاعدوں میں تمام دو چشمی حروف کو حروف تہجی کا حصہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ فارسی حروف میں صرف ’’ٹ‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ کی تین آوازوں کا اضافہ کر کے اردو حروف تہجی کو مکمل تصور کر لیا جاتا ہے۔ بچہ بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس نے سب حروف کی شکلیں اور آوازیں ذہن نشین کر لی ہیں۔ اگلے مرحلے میں بچے کو حروف جوڑ کر مختلف آوازوں کو ملانے اور لکھتے وقت انھیں جوڑنے اور توڑنے کے قواعد سکھائے جاتے ہیں۔ اب بچہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ حروف کی سب مفرد اور مرکب شکلوں سے آگاہ ہو گیا ہے، لہٰذا اس کے منہ سے نکلنے والی ہر آواز اب حروف جوڑ کر الفاظ کی شکل میں لکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اس مرحلے کے بعد وہ ایک نئی الجھن کا شکار ہوتا ہے اور اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہماری زبان میں ایک اور ’’ہ‘‘ بھی موجود ہے اور اس کی دو آنکھیں ہیں۔ جب اس کی آنکھیں ب، پ، ت، ٹ، ج، چ، د، ڈ، ر، ڑ، ک، گ، ل، م اور ن سے ملتی ہیں یا لڑتی ہیں تو بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح بچہ ان حروف کی شکلوں اور آوازوں سے تو شاید واقف اور مانوس ہو جاتا ہے لیکن اسے یہ علم عمر بھر نہیں ہوتا کہ وہ ہائے دو چشمی والے حروف کو حروف تہجی کا حصہ تصور کرے یا نہیں۔ اگر انھیں حروف تہجی کہا جائے تو پہلے تعارف میں انھیں شامل کیوں نہیں کیا جاتا اور اگر وہ حروف تہجی کا حصہ نہیں تو انھیں کیا نام دیا جائے؟ جب کہ ان کے استعمال کے بغیر اردو میں شاید ایک جملہ لکھنا بھی ممکن نہ ہو۔

باون حروف کے خاندان میں اگر پندرہ کو خاندان کا حصہ ہی نہ مانا جائے تو خاندان کا نظام کیسے چلے گا۔ اس الجھن کا شکار معمولی پڑھے لکھے افراد سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ لسانیات کے ماہرین اور لغات کے مرتبین بھی ہیں۔ لغت کی بعض کتابوں میں بھی ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں کوئی فرق نہیں سمجھا گیا اور ان کو اس طرح مخلوط و مجہول کر دیا گیا کہ ایک عام فرد لفظ کے تلفظ، املا یا معنی سمجھنے کے بجائے مزید الجھاؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز نہ کرنے کی وجہ سے ’’منہ‘‘، ’’منھ‘‘، ’’مونہہ‘‘ اور ’’مونھ‘‘ ایک ہی لفظ چار مختلف شکلوں میں لکھا جاتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ اسے کسی اور املا سے بھی لکھا جاتا ہو جو راقم کو معلوم نہ ہو۔ لطف کی بات یہ کہ ان املا کو لغت کی کتابوں میں بھی کسی تصریح کے بغیر کبھی ایک طرح سے اور کبھی دوسری طرح سے لکھا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ’’ٹ‘‘، ’’ڈ‘‘ اور ’’ڑ‘‘ مرکب اور مخلوط حروف نہیں یعنی وہ کسی دوسرے حرف کو ’’ط‘‘ سے ملا کر نہیں بنائے گئے، اُسی طرح اردو میں ہائے دو چشمی گروہ کے سارے حروف اپنی اپنی حیثیت میں مستقل اور مفرد حروف ہیں۔

’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں امتیاز نہ کرنے کی وجہ سے اردو کے قدیم شعرا اپنے شعری دیوان مرتب کرتے وقت ’’ھ‘‘ کی ردیفوں مثلاً ’’آنکھ، ساتھ، ہاتھ‘‘ وغیرہ کو ردیف ’’ہ‘‘ کی ذیل میں ہی لکھا کرتے تھے۔ اس طرح ’’ہ‘‘ کی ردیف میں ’’یہ، وہ، نقشہ، جگہ‘‘ کے ساتھ ہی ’’آنکھ، بیٹھ، ساتھ، ہاتھ‘‘ وغیرہ بھی موجود ہوتے تھے۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ ردیفوں کے نام صرف فارسی حروف پر رکھتے تھے اور ’’بھ، ٹھ، چھ، کھ‘‘ وغیرہ کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔

فن ابجد اور علم الاعداد تقریباً اُتنے ہی پرانے فنون ہیں، جتنا پرانا فنِ کتابت ہے۔ ہمارے ہاں رائج فنِ ابجد عربی کے اٹھائیس حروف تہجی پر مبنی ہے۔ اس فن کے تحت ہر حرف کی ایک عددی قیمت متعین کر دی گئی ہے، مثلاً الف=ا، ب=۲، ج=۳ اور د=۴۔ اور اسی طرح تین تین اور چار چار حروف کے مختلف ترتیب سے سیٹ بنا کر ان کی اکائی، دہائی اور سیکڑا میں قیمتیں فرض کر لی گئی ہیں۔ عربی سے یہ فن فارسی اور اردو میں بھی پہنچا لیکن ان زبانوں کے زائد حروف کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی گئی بلکہ ان کی قیمتیں قریب ترین حرف کی قیمت کے برابر فرض کر لی گئیں۔ مثلاً پ=ب=۲، چ=ج=۳ اور گ=ک=۲۰۔ اردو میں مستعمل ہندی حروف ٹ، ڈ، ڑ وغیرہ بھی قریب ترین حرف کے عدد کے برابر شمار کیے گئے لیکن ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک ہی حرف فرض کر کے ان کی قیمت ایک ہی رکھی گئی۔ یہاں اس کی مکتوبہ شکل سے دھوکا کھا کر اسے ب+ھ= ۲+۵= ۷ تصور کی گئی ہے۔

آواز اور اس کی مقررہ علامت یعنی حرف کے باہمی تعلق کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے علمِ عروض ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔ عروض میں مصرع کی تقطیع کے قواعد کی رو سے ’’ھ‘‘ خاندان کے تمام حروف مفرد ہی شمار ہوتے ہیں۔ ان کی مکتوبہ شکل سے دھوکا کھا کر انھیں مخلوط یا مرکب حروف نہیں سمجھا جاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ قدیم عروض دان انھیں واضح طور پر ایک حرف ماننے کے بجائے یوں لکھا کرتے تھے کہ ’’تقطیع میں ’ھ‘ ساقط ہو جاتی ہے۔‘‘ حال آں کہ اس سقوط سے مراد یہی ہے کہ ’’ھ‘‘ کی اپنی کوئی الگ آواز نہیں ہے اور یہ مخلوط حرف نہیں۔ سات، ساتھ، کاٹ، کاٹھ، کھاٹ اور گول، گھول وغیرہ الفاظ ہم وزن ہیں جب کہ ’’بھاؤ اور بہاؤ‘‘، ’’دھن اور دہن‘‘، ’’پھن اور پہن‘‘ اور ’’پھل اور پہل‘‘ ہم وزن نہیں ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک ہی حرف یا ایک دوسرے کا متبادل و مترادف سمجھنا بہت بڑا علمی مغالطہ ہے۔

حقیقت میں ’’ھ‘‘ اردو حروف تہجی کی وہ مکتوبہ شکل یا علامت ہے جو پندرہ حروف میں مشترکہ طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ الگ سے کوئی حرف نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی لفظ شروع ہوتا ہے۔ اگر حروف ہجا کی اشکال کے لحاظ سے گروہ بندی کی جائے تو ’’ب، پ، ت، ٹ، ث‘‘، ’’ج، چ، ح، خ‘‘ اور ’’ر، ڑ، ز، ڑ‘‘ وغیرہ چند گروہ وجود میں آتے ہیں جنھیں تہجی ترتیب میں ایک ساتھ لکھا جاتا ہے۔ ’’بھ، پھ، تھ۔۔۔ لھ، مھ، نھ‘‘ وغیرہ بھی ہم شکل حروف کا ایک گروہ ہے جس کے ارکان کی تعداد سب سے زیادہ یعنی پندرہ ہے لیکن انھیں جب ایک گروہ کی شکل میں لکھا جائے تو بنیادی حروف تسلیم ہی نہیں کیا جاتا اور اگر بنیادی حروف کی ترتیب میں یعنی ’’ب‘‘ کے بعد ’’بھ‘‘ لکھا جائے تو پھر بھی ترتیب نمبر سے محروم رکھا جاتا ہے اور انھیں اس طرح منتشر کر دیا جاتا ہے کہ ان کی اہمیت اجاگر نہیں ہو پاتی۔

عربی زبان کے بعض خطوط میں ہائے مختفی (ہ) کو ہائے دو چشمی (ھ) کی طرح بھی لکھا جاتا ہے اور یہی رواج اردو میں بھی موجود ہے۔ کیونکہ عربی میں ہائے دو چشمی کا کوئی الگ وجود نہیں ہے، اس لیے اسے دونوں شکلوں میں لکھنا جائز ہے لیکن اردو میں ایسی ’’ھ‘‘ پر مشتمل حروف کا ایک پندرہ رکنی خاندان موجود ہے جن کا ہائے مختفی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ’’ہ‘‘ اور ’’ھ‘‘ کو ایک دوسرے کا مترادف یا متبادل تصور نہ کیا جائے اور املا میں بھی ان کے فرق کو ملحوظ رکھ کر ایک بہت بڑے مغالطے کا اِزالہ کیا جائے۔

اردو میں ’’ڑ‘‘ سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا اور اسی طرح ’’ژ‘‘ (زائے فارسی) کا اردو میں استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ حروف تہجی میں برابر کے ارکان ہیں تو ہندی الاصل بھاری آوازوں والے حروف جو ہائے دو چشمی سے لکھے جاتے ہیں، انھیں بھی حروف تہجی کی فہرست میں شامل کر کے بچے کو حروف کے پہلے تعارف میں ہی ان سے روشناس کرایا جانا چاہیے تاکہ ایک بہت بڑے لسانی سقم کو دور کیا جا سکے اور املا کے مغالطے سے نجات حاصل کی جا سکے۔

لغت کی کتابوںمیں ان حروف کو شامل کیا جاتا ہے اور ان کی آوازوں پر مشتمل الفاظ کے معانی و مطالب اور زبان کے قواعد کی دوسری ضروری تصریحات کی جاتی ہیں لیکن انھیں حروف تہجی کی فہرست میں کوئی ترتیب نمبر نہیں دیا جاتا۔ مثلاً ’’ب‘‘ کو اردو حروف تہجی کا دوسرا حرف لکھا جاتا ہے اور ’’بھ‘‘ کو ایک مستقل حرف قرار دے کر اس سے شروع ہونے والے الفاظ کی الگ فہرست لکھی جاتی ہے لیکن اسے تیسرا حرف نہیں سمجھا جاتا بلکہ آگے چل کر ’’پ‘‘ کو تیسرا حرف شمار کیا جاتا ہے۔ لغت کے بعض مرتبین نے ’’بھ‘‘، ’’پھ‘‘ وغیرہ کو الگ حرف شمار ہی نہیں کیا اور ’’ب-و‘‘ کے بعد ’’ب-ہ اور ب-ھ‘‘ کی ذیل میں لکھا ہے اس طرح ’’بہرا‘‘ اور ’’بھرا‘‘، ’’بہاؤ‘‘ اور ’’بھاؤ‘‘ کو ایک ساتھ لکھ کر ان کے تلفظ کی الگ الگ تصریح بھی نہیں کی اور یوں مسئلے کو الجھا دیا ہے۔

اگر انگریزی حروف ہجا کی تعداد چھبیس اور عربی کے حروف کی تعداد اٹھائیس ہے اور ان زبانوں کی تمام تحریروں میں ایسی کوئی شکل یا علامت نہیں پائی جاتی جو اِن چھبیس یا اٹھائیس حروف کے علاوہ ہو تو اردو میں ایسا کیوں ہے کہ اس کے سینتیس حروف تہجی کے علاوہ پندرہ مزید ایسی اشکال بھی ہیں جو بنیادی حروف تو نہیں لیکن ان کے بغیر زبان مکمل بھی نہیں ہو سکتی۔

زبانیں ایک دوسری کے میل جول اور اشتراک و ادغام سے بنتی ہیں۔ کسی بھی لفظ کے تلفظ یا املا کی سب سے بڑی سَنَد اس کی ابتدائی زبان ہوتی ہے جس سے وہ کسی دوسری زبان میں منتقل ہوا ہو۔ دو چشمی حروف چونکہ ہندی الاصل ہیں اور دیونا گری رسم الخط میں انھیں آزاد اور مستقل حرف کی حیثیت حاصل ہے، ان کی املائی اشکال بھی کسی دوسرے قریب المخرج حرف سے ملتی جلتی نہیں ہیں، اس لیے اردو میں بھی انھیں الگ حرف کی حیثیت ملنی چاہیے اور حروفِ تہجی کی فہرست میں انھیں خاص ترتیب نمبر دیا جانا چاہیے۔

پاکستان میں اردو لغت بورڈ نے اردو کی جدید لغت اردو زبان و ادب کے بہت بڑے ماہرین کی کم و بیش نصف صدی کی محنت سے مکمل کی ہے۔ اس لغت میں حروف کی ترتیب ا، ب، بھ، پ، پھ ہی رکھی گئی ہے۔ ۳۲ جلدوں پر مشتمل ہزاروں صفحات کی یہ لغت چونکہ عام آدمی کی رسائی سے باہر ہے، اس لیے معلوم نہیں ہو سکا کہ اس میں دو چشمی ’’ھ‘‘ والے حروف کو ایک مستقل حرف تسلیم کیا گیا ہے یا نہیں اور اسے تہجی ترتیب نمبر بھی دیا گیا ہے یا نہیں۔

ANS 05

(أ) همزة وصل : 

وهي همزة تنطق في ابتداء الكلام ولا تنطق عند وصله بما قبلها ، ولا يرسم عليها أو تحتها همزة وتكتب هكذا (ا).

 مواضع همزة الوصل :

(1) في الأفعال :

 

 أمر الثلاثي المبدوء بهمزة مثل : اضربْ، اجلسْ , العبْ
 ماضي وأمر ومصدر الخماسي مثل : انطلقَ، انطلقْ، انطلاق
 ماضي وأمر ومصدر السداسي مثل : استقبلَ ، استقبلْ ، استقبال

 

(2) في الأسماء:

 

” ابن ، ابنة ، ابنم ، ابنان ، ابنتان ، اثنان ، اثنتان ، امرؤ ، امرأة ، اسم ، است ، امرآن ، امرأتان ، اسمان ، ايمن  ” .

 

(3) في الحروف :

 

ال التعريف ، مثل :  القاضي  ، المدرسة .

 

% هام جداً :

مواضع حذف همزة الوصل :
 إذا سبقت بهمزة استفهام : أنطلق الجواد ؟ ، أستسلم العدو ؟
 إذا سبقت بلام الابتداء [ لَلفتى] ، أو لام الاستغاثة [يا لَلّه] ، أو لام الجر   [لِلرجل ]
 تحذف من البسملة التامة : بسم الله الرحمن الرحيم .

 تحذف همزة (ابن) في ثلاثة مواضع :

  إذا وقعت بين علمين الثاني والد الأول ولم تقع (ابن) في بداية السطر : محمد بن عبدالله
  إذا سبقت بحرف نداء : يا بن  عبد الله
 إذا سبقت بهمزة الاستفهام : أبنك محمد ؟

 

  تحذف همزة (امرؤ ، امرأة) إذا سبقت بـ (أل) : فتصيران (المرء ، المرأة) .

 

 ملحوظة :

 إذا دخلت همزة الاستفهام على المعرف بـ (أل) قُلبت همزة الاستفهام وهمزة الوصل مدة  ، مثل: آلكتاب لك ؟

 (ب)همزة القطع :  

وهي همزة متحركة تقع في أول الكلمة ، وينطق بها في ابتداء الكلام وفي وسطه ، وتكتب هكذا: (أَُ) إذا جاءت مفتوحةً أو مضمومة ، و  (إِ) إذا كانت مكسورة.

 مواضع همزة القطع :

 

(1) في الأفعال :

 

 ماضي الثلاثي ومصدره مثل : أكل ، أكلا- أخذ ، أخذا
 ماضي الرباعي وأمره مصدره مثل : أضربَ ، أضرِبْ ، إضراب
 كل مضارع مبدوء بهمزة مثل : أكتبُ , أشربُ ، أستعملُ

 

(2) في الأسماء:

في جميع الأسماء عدا شواذ الأسماء  المذكورة في همزة الوصل .

(3) في الحروف:

جميعها عدا [ال] التعريف ، مثل : إلى – أو – أم – إن – أن

 

 قاعدة مهمة للتفرقة بين همزة القطع وهمزة الوصل :
للتفريق بين هاتين الهمزتين في بداية الكلمة هناك طريقة سهلة وهي :أن تضع قبل الكلمة حرف الواو أو الفاء ثم تنطقها فإن نطقت الهمزة فهي همزة قطع ، وإن لم تنطق الهمزة فهي همزة وصل .
مثال : أخذ (وأخذ ، فأخذ) لاحظ أنك تنطق الهمزة إجبارا ، ولاحظ أن الهمزة قطعت عليك النطق بين حرف الواو أو الفاء وحرف الخاء
مثال : استعمل (واستعمل ، فاستعمل) لاحظ أنك لم تنطق الهمزة  ، وإنما اتصل حرف الواو بالسين واتصل حرف الفاء بالسين  ولذلك سميت همزة وصل  .

  ‏ال القمرية  المظهرة ، و ‏ال الشمسية

 

” ‏ال القمرية  المظهرة ” :

هي التي تكتب في أول الأسماء وتظهر عند النطق ، وهي لام ساكنة ، وتسمى (أل) المظهرة  ؛ لأنها تظهر عند النطق بها .

 

مثال : الْعلم – الْقلم – الْكلام – المثال .

 

ويأتي بعدها حرف من الحروف الآتية:

 

 أ –  ب  –  ج  –  ح  –  خ  –  ع  –  غ  –  ف  –  ق  –  ك  –  م  –  ه –   –  و  –  ي 

 

و حروف (أل) القمرية جمعت في هذه الجملة : 

”  ابغ حجك وخف عقيمه “

 

” ال الشمسية المدغمة ” :

هي التي تكتب ولا تنطق (لأنها تدغم بالحرف الذي بعدها ، فيكتب الحرف الذي بعدها مشددًا)  

.

مثال : التُّفاح – الذَّهب – الصِّدق – الطَّعام .

 22

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 01

حروفِ جارۃ ایسے حروف کو کہتے ہیں جو اپنے بعد آنے والے اسموں کو مجرور کر دیں۔ حروفِ جارہ کے بعد آنے والے اسم کے آخری حرف پر زیر آ جائے گی۔ لیکن چند اسم ایسے ہیں کہ جو کبھی مجرور نہیں ہوتے۔ مثلاً: ابراہیم، عائشہ وغیرہ۔
حروفِ جارہ کی کل تعداد
۱۷ بتائی جاتی ہے۔ حروفِ جارہ مندرجہ ذیل شعر میں جمع کر دیئے گئے ہیں:

 

با و تا و کاف و لام و واؤ‘ منذ و مذ‘ خلا
رُبّ‘ حاشا، مِن‘ عدا‘ في‘ عَن‘ علیٰ‘ حتیٰ، اِلیٰ

مثالیں:

 

  1. بِ + اسم = بِسمِ اللهِ۔ ب کی وجہ سے اسم مجرور ہوا جبکہ اللہ کا لفظ اسم کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوا۔
  2. تاللهِ
  3. هو رجلٌ قوي كالأسدِ
  4. للهِ
  5. والعصرِ
  6. كان يقرأ القران منذ صباحٍ
  7. كان يقرأ القران مذ صباحٍ
  8. رأيت البيت خلا غرفةِ النومِ
  9. رُبَّ شيءٍ في ملكِ احمد
  10. حاشا! هذا شيءٍ عجيب
  11. من الكليةِ
  12. هو اشترى لباسه عدا جوربين
  13. في المدرسةِ
  14. عن البيتِ
  15. على الارضِ
  16. سافرت حتى المساء
  17. إلى المدرسةِ

     جو حُروف اسْم پر داخل ہوکراُسے جرّ دیتے ہیں اُنہیں حُروفِ  جارّہ یاحروفِ جر کہتے ہیں ، یہ سترہ حروف ہیں :

                                                بَا وتَا  وکَاف ولَام  ووَاو مُنْذُ  ومُذْ  خَلَا

              رُبَّ حَاشَا مِنْ عَدَا فِيْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی اِلٰی   (در:۱۳)

اِن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

          مِنْ(سے): اَلْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔  حَتّٰی(تک): حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ اِلٰی(تک، طرف): تُوْبُوْااِلٰی اللہِ۔  عَلٰی(پر): اَلسَلَامُ عَلَیْکُمْ۔    فِيْ(میں ) : عُثْمَانُ فِي الْجَنَّۃِ۔   عَنْ(سے): نَہٰی عَنِ الدَوَائِ الْخَبِیْثِ۔   بِ(سے): بِسْمِ اللہِ۔    کَ(طرح) : لَیْسَ الْخَبَرُ کَالْمُعَایَنَۃِ۔    لَِ(لیے):  الْمَالُ لِزَیْدٍ، اَلْقَلَمُ لَہٗ۔   خَلَا، عَدَا، حَاشَا(علاوہ) : نَامَ الْقَوْمُ حَاشَا زَیْدٍ۔   مُذْ، مُنْذُ(سے) : مَارَأَیْتُہٗ مُذْ سَنَۃٍ۔   رُبَّ(کئی، کچھ): رُبَّ عَابِدٍ جَاہِلٌ۔  وَ، تَ (قسم کے لیے):  وَالْعَصْرِ،  تَاللہِ۔(شما:۶تا ۲۹)

تنبیہ:   .1حرفِ جر اور اُس کے بعد والے اسم کو جار مجرور کہتے ہیں ،جارمجرور ہمیشہ فعل یا شبہِ فعل( اسمِ فاعل، اسمِ مفعول ، صفَتِ مشبہہ ، اسم تفضیل، مصدر) کے مُتعلِّق ہوتے ہیں اور جس کے متعلِّق ہوتے ہیں اُسے مُتعلَّقکہتے ہیں۔

          .2جار مجرور کا متعلَّق لفظًا موجودہو تو اِن کو ظرفِ لَغْوکہتے ہیں : حُفَّتِ الْجَنَّۃُ

بِالْمَکَارِہِ۔اور محذوف ہو تو اِن کو  ظرفِ مُستقَرّکہتے ہیں : اَلْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

تمرین  (1)

(الف) اعراب لگایئے نیز جار مجروراور ان کا متعلَّق پہچانئے۔

            ۱۔النجاۃ في الصدق۔   ۲۔الحمد للہ۔   ۳۔الأعمال بالنیات۔   ۴۔الصدقات للفقرائ۔  ۵۔الأمواج کالجبال۔   ۶۔الدال علی الخیر کفاعلہ۔  ۷۔نہی عن الاختصار في الصلاۃ۔  ۸۔لا خیر في الاسراف۔   ۹۔الرجل في الدار۔   ۱۰۔لکل امریٔ ما نوی۔   ۱۱۔أفضل الکسب عمل الرجل بیدہ۔   ۱۲۔ما نقصت صدقۃ من مال۔   ۱۳۔السخي قریب من اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس بعید من النار۔  ۱۴۔البخیل بعید من اللہ بعید من الجنۃ بعید من الناس قریب من النار۔ ۱۵۔الآمر بالمعروف کفاعلہ۔   ۱۶۔الأنبیاء أحیاء في قبورہم۔

 

{…جمع مکسر کے اوزان…}

       ۱۔أَفْعُلٌ: أَفْلُسٌ، أَنْفُسٌ۔  ۲۔أَفْعَالٌ: أَفْرَاسٌ، أَقْوَالٌ۔  ۳۔أَفْعِلَۃٌ: أَرْغِفَۃٌ، أَطْعِمَۃٌ۔  ۴۔فِعْلَۃٌ: غِلْمَۃٌ، صِبْیَۃٌ۔  ۵۔فَعَلَۃٌ: بَرَرَۃٌ، کَفَرَۃٌ۔   ۶۔أَفْعِلَائُ: أَنْبِیَاءُ، أَوْلِیَائُ۔  ۷۔فُعْلٌ: حُمْرٌ، فُلْکٌ۔  ۸۔فِعَالٌ: رِجَالٌ، ہِجَانٌ۔  ۹۔فُعُوْلٌ: قُرُوْئٌ، قُرُوْنٌ۔  ۱۰۔فِعَلٌ: فِرَقٌ، کِسَرٌ۔  ۱۱۔فَعْلٰی: مَرْضٰی، قَتْلٰی۔  ۱۲۔فُعَلَاءُ: عُلَمَاءُ، کُرَمَاءُ۔  ۱۳۔فُعَلَۃٌ: نُحَاۃٌ، قُضَاۃٌ۔  ۱۴۔فُعَّلٌ: رُکَّعٌ، سُجَّدٌ۔  ۱۵۔فُعَّالٌ: کُتَّابٌ، حُرَّاسٌ۔  ۱۶۔فُعَلٌ: لُجَجٌ، کُبَرٌ۔  ۱۷۔فَوَاعِلُ: نَوَاشِزُ، شَوَامِخُ۔  ۱۸۔فَعَائِلُ: عَجَائِزُ، صَحَائِفُ۔  ۱۹۔مَفَاعِلُ: مَفَاسِدُ، مَنَازِلُ۔ ۲۰۔مَفَاعِیْلُ: مَصَابِیْحُ، مَکَاتِیْبُ۔  ۲۱۔فَعَالِلُ: جَعَافِرُ، جَحَامِرُ۔  ۲۲۔فَعَالِیْلُ: دَنَانِیْرُ۔

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 02

🎇 *حروف مشبہ بالفعل*

🌠 *اِنّ وَ اَخَوَاتُ اِنَّ*
🌠 *اِنَّ اور اِنَّ کی بہنیں*
(اِنَّ کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں اِنَّ کے علاوہ اور الفاظ ہیں جو اِنَّ والا کام کرتے ہیں یعنی اپنے اسم کو منصوب کر دیتے ہیں تو وہ اِنَّ کی بہنیں کہلاتی ہیں)

 *اِنَّ 👈 بیشک یقیناً*
اِنَّ *اللَّهُ* معَ الصَّابِرِینَ
اِنَّ نے اپنے اسم ” لفظ اللَّهُ کو منصوب کر دیا ہے
(بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

 *اَنَّ 👈 کہ*
اَشَّھَدُ *اَنَّ* مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ
اسم اَنَّ مُحَمَّدًا منصوب ہے
جو کام اِنَّ کرتا ہے وہ ہی اَنَّ کرتا ہے
(میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں)

 *کَاَنَّ 👈 گویا کہ/مانند*
کَاَنَّ *الطِّفلَ* قَمَرٌ
کَاَنَّ نے اپنے اسم کو منصوب کر دیا
(گویا کہ بچہ چاند کی مانند ہے)

 *لکِنَّ 👈 لیکن*
اِنَّ *الْقُرْآنَ* بَیَّنٌ ، لکِنَّ *الکَافِرِینَ* جَاھِلُونَ
یہاں دونوں الفاظ لکِنَّ اور اِنَّ آ گئے.
اِنَّ نے اپنے اسم قرآن کو منصوب کر دیا یہ اصل میں دو جملے ہیں اور کافرین حالت نصب ہے لکِنَّ کی وجہ سے
(بیشک قرآن واضح ہے لیکن کافر جاہل ہیں)

 *لَیتَ👈 کاش*
لَیتَ *الاِسلَامَ* غَالِبٌ
(کاش کہ اسلام غالب ہوتا)

 *لَعَلَّ 👈 شاید، تاکہ، امید ہے*
لَعَلَّ *زَیدًا* صَادِقٌ
لَعَلَّ نے زید کو منصوب کر دیا ہے
(امید ہے زید سچا ہے)

💫 *لکِنَّ کی مزید مثالیں*

💫 زَیدٌ عَالِمٌ لکِنَّ *اِبنَہٗ* جَاھِلٌ
*اِبنَہٗ*…. اِبنَ اسم لکِنَّ اور مضاف
ہٗ … مضاف الیہ
لکِنَّ نے اپنے اسم اِبنُ کو اِبنَ کر دیا ہے
(زید عالم ہے اور اسکا بیٹا جاہل ہے)

💫 الرَّجُلُ غَنِیٌّ *لکِنَّہٗ* بَخِیلٌ
*لکِنَّہٗ* …. ہٗ لکِنَّ کا اسم ہے اور یہ ضمیر متصلہ منصوبہ ہے یہ حالت نصب میں ہے.
(آدمی غنی ہے لیکن وہ کنجوس ہے.)

💫 وَقتُ حِسَابِ النَّاسِ قَرِیبٌ لکِنَّ *اَکثَرَھُم* غَافِلُونَ
اصل اَکثَرُ تها لکِنَّ نے اَکثَرَ کر دیا
(لوگوں کے حساب کا وقت قریب ہے لیکن ان میں سے اکثر غافل ہیں)

💫 اِنَّ *اللَّهَ* لَذُو فَضْلٍ علی النَّاسِ وَ لکِنَّ *اَکثَرَ* النَّاسِ لَا یَشکُرَونَ

بیشک اللہ اپنے بندوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

💫 لَیسَ عَلَيْكَ ھُدَاھُم وَ لکِنَّ *اللَّهُ* یَھدِی مَن یَشَاءُ

آپ کے ذمہ ہدایت دینا نہیں لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسکو وہ چاہتا ہے

🌀 *اِنَّ وَ اَخَوَاتُ اِنَّ +ما*

<اِنَّ کے ساتھ ما ملایا دیا جائے تو وہ بن جاتا ہے اِنَّمَا.
اِنَّمَا سے بھی تاکید کا پہلو نکلتا ہے یہ بھی تاکید کیلئے استعمال ہوتا ہے لیکن اسکا اثر آگے مبتدا یا اسکے اسم پر نہیں ہوتا)

🌀 *حروف مشبہ بالفعل کے ساتھ (ما زائدہ) کا استعمال* حروف مشبہ بالفعل کا اثر ختم کر دیتا

مثال دیکھیں مشہور مثال ہے

🌀 *اِنَّمَا الاَعمَالُ بِالنِّیَّاتِ*

بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

اب یہ 👆اَعمَالُ ، اَعمَالُ ہی رہا اگر اِنَّ ہوتا تو اَعمَالَ بن جاتا تو اسکا(اِنَّ) کا اثر ختم ہوگیا تاکید کا پہلو اپنی جگہ پر قائم ہے

🌀 *اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخوَۃٌ*
بے شک مومن بھائی بھائی ہیں

🌀 *اِنَّمَا نَحْنُ مُسلِمُونَ*
بیشک ہم مسلمان ہیں

🌀 *اِنَّمَا اَنتَ مدَّکِرُ*
بیشک آپ یاد دہانی کرانے والے ہیں

🌀 *اِنَّمَا اَنَا رَسُولُ رَبِّکَ*
بیشک میں تمھارے رب کا رسول ہوں

🌀 *اِنَّمَا ھذَا الحِیَاۃُ الدُّنیَا مَتَاعٌ*
بیشک یہ دنیاوی زندگی برتنے کا سامان ہے

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 03

افعال ناقصہ وہ فعل ہیں جو عموما اکیلے فاعل کے ساتھہ مکمّل معنی نہیں دیتے… بلکہ انکے ساتھہ کوئی فعل یا اسم آتا ہے خبر کی صورت میں… لیکن یہ فعل تام کی طرح بھی استعمال ہو سکتے ہیں… 

.

لَیْسَ – یہ جملے میں فعل حال میں نفی کے معنی پیدا کرتا ہے … لیس خبر کو منصوب کرتا ہے یا پھر ‘بِ’ لگا کر مجرور…

.

کان – ہوا ہے یا تھا 

.

صَارَ – ہو چکا 

.

ما دام – جب تک 

.

ان افعال میں مختلف اوقات ظاہر ہوتے ہیں… 

أَصْبَحَ – صبح کے وقت 

أَضْحٰی – چاشت یا دوپہر کے وقت 

أَمْسٰی – شام کے وقت 

ظَلَّ – دن کے وقت 

بَات – رات بھر 

یہ چاروں جملے میں استمراری معنی پیدا کرتے ہیں یعنی کہ کام مسلسل ہوتا رہا…

 مَا زالَ – ابھی تک، اب بھی 

مَا بَرِحَ 

مَا فَتِیئَ

مَا انْفَکَّ 

.

یہ چاروں ناقصه ہونے کی صورت میں بمعنی صار استعمال ہوتے ہیں… یعنی کام ہوگیا یا ہو چکا… 

عَادَ – لوٹنا 

اٰض – پھرنا 

غَدَا – صبح کے وقت جانا  

رَاحَ – شام کے وقت جانا  

.

يَغْدُوُ يَغْدُوَانِ يَغْدُوُونَ تَغْدُوُ تَغْدُوَانِ يَغْدُوْنَ تَغْدُوُ تَغْدُوَانِ تَغْدُوُونَ تَغْدُوِينَ تَغْدُوَانِ تَغْدُوْنَ أَغْدُوُ نَغْدُوُ  

.

مثالیں  

.

لَيْسَ نہیں  

.

لَيْسَ هُوَ طَوِيْلًا –  لَيْسَ هُوَ بِطَوِيْلٍ – وہ لمبا نہیں ہے 

لَيْسَتْ زَهْرَة مُعَلِّمَةً –  لَيْسَتْ زَهْرَة بِمُعَلِّمَةٍ – زھرہ استانی نہیں ہے 

لَسْتُ وَحْدِى – میں اکیلی، اکیلا نہیں

لَيْسُوا هُمْ فِى الْمَلْعَبِ – وہ کھیل کے میدان میں نہیں ہیں

.

کَانَ یَکُونُ – ہوا، تھا

.

کَانَ حَامِدٌ مَرِیْضًا اَمْسَ – حامد شام سے بیمار تھا 

کَانَ الْمَاءُ بَارِدٌ – پانی سے ٹھنڈا تھا 

کَانَ عُمُرُ رَجُلًا غَنِیًّا – عمر سخی آدمی تھا 

کَانَ الْبَابُ مَفْتُوحًا – دروازہ کھلا ہوا تھا 

کَانَتْ ھٰذِہِ السَّاعَةِ رَخِیْصَةً – یہ گاڑی سستی تھی 

کَانَ الْمُدَرِّسُ فِی الْفَصْلِ قَبْلَ خَمْسٍ دَقَائِقَ – استاد پانچ منٹ پہلے کلاس میں تھے 

کَانَ الطُّلَابُ فِی الْمَکْتَبَةِ قَبْلَ نِصْفِ سَاعَةٍ – طلبہ آدھے گھنٹے پہلے لائبریری میں تھے 

کَانَتْ اُمِّی فِی الْمَطْبَخِ قَبْلَ قَلِیْلٍ – امی ابھی تھوڑی دیر پہلے باورچی خانے میں تھیں 

کَانَ الْمُدِیْرُ فِی غُرْفَتِهِ قَبْلَ سَاعَةٍ – پرنسپل ایک گھنٹہ پہلے اپنے کمرے میں تھے 

کَانَ الْوَزِیْرُ فِی لَنْدَنَ قَبْلَ اُسْبُوعٍ – وزیر ایک ہفتے پہلے لندن میں تھا 

کَانَتْ اُخْتِی فِی مَکَّةَ قَبْلَ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ – میری بہن چار دن پہلے مکے میں تھی 

کَانَ الأَطِبَّاءٌ فِی الْمُسْتَشْفَی قَبْلَ ثُلُثِ سَاعَةٍ – سارے طبیب بیس منٹ پہلے اسپتال میں تھے 

کَانَتْ الطَّالِبَاتُ فِی الْمَکْتَبَةِ قَبْلَ قَلِیْلٍ – طالبات تھوڑی دیر پہلے لائبریری میں تھیں  

.

مَا زَالَ ، لَا یَزَالُ – ابھی تک 

.

اِبْرَاهِیْمُ نَائِمٌ – ابراھیم سو رہا ہے …… لَا یَزَالُ اِبْرَاهِیْمُ نَائِمًا – ابراہیم ابھی تک، اب بھی  سو رہا ہے 

آمِنَةُ نَائِمَةٌ – آمنہ سو رہی ہے …… لَا تَزَالُ آمِنَةُ نَائِمَةً – آمنہ ابھی تک، اب بھی  سو رہی ہے 

ھَشَّامٌ عَزَبٌ – ھشام کنوارا ہے ….. لَا یَزَالُ ھَشَّامٌ عَزَبًا ھشام ابھی تک، اب بھی کنوارا ہے 

أَحْمَدُ مَرِیْضٌ – احمد بیمار ہے ….. لَا یَزَالُ أَحْمَدُ مَرِیْضًا احمد ابھی تک، اب بھی بیمار ہے 

اَلْمَکْتَبَةُ مُغْلِقَةٌ لائبریری بن ہے ….. لَا تَزَالُ الْمَکْتَبَةُ مُغْلِقَةً لائبریری ابھی تک، اب بھی بند ہے 

حَامِدٌ غَائِبٌ حامد غیر حاضر ہے ….. لَا یَزَالُ حَامِدٌ غَائِبًا حامد ابھی تک، اب بھی غیر حاضر ہے 

اَلْجُوُّ حَارٌّ – فضا گرم ہے …..  لَا یَزَالُ الْجُوُّ حَارًّا فضا ابھی تک، اب بھی گرم ہے  

السَّیٌّارَةُ جَدِیْدَةٌ گاڑی نئی ہے ….. لَاتَزَالُ السَّیَّارَةُ جَدِیْدَةً گاڑی ابھی تک، اب بھی نئی ہے 

.

کَادَ یَکَادُ – (کَوُدَ یَکْوَدُ) – کرنے والا تھا یا قریب تھا 

.

فَتَحَ زَکَرِیَّا الْبَابَ وَ کَادَ یَخْرُجُ – زکریا نے دروازہ کھولا اور وہ نکلنے ہی والا کے قریب تھا 

یَکَادُ الْاِمَامُ یَرْکَعُ – امام رکوع میں جانے ہی والا تھا 

یَکَادُ الْجَرَسُ یَرِنُّ – گھنٹی بجنے ہی والی تھی 

اِنْقَلَبَتْ سَیَّارَةُ حَامِدٍ وَ کَادَ یَمُوْتُ – حامد کی گاڑی الٹ گئی اور وہ مرنے ہی والا تھا 

ضَرَبَتِ الْمُدِیْرَةُ سُعَادَ فَکَادَتْ تَبْکِی – پرنسپل نے سعاد کو مارا تو وہ رونے کے قریب تھی  

ضَرَبَ طِفْلِی نَظَّارَتِی بِاالْعَصَاءِ وَ کَادَ یَکْسِرُھَا – ایک بچی نے میری عینک کو چھڑی سے ضرب لگائی، وہ اسے توڑنے کے قریب تھی 

السَّاعَةُ الْآنَ الْوَاحِدَةُ یَکَادُ الْمُدِیْرُ یُخْرِجُ – ابھی ایک بجا ہے، پرنسپل نکلنے ہی والے ہیں 

.

Screenshot 8

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 608 Spring 2020

ANS 04
رحمن کے خادم

 خداوند متعال نے اپنی کتاب کے متن میں اپنے نیک بندوں کی صفات اور خصوصیات کا تذکرہ کیا ، انھوں نے مومنین کی پہلی سورت میں اور سورت الفرقان کے اختتام میں ذکر کیا ، جو ایسی خصوصیات ہیں جو عموما اپنے بندے سے ڈرنے والے مومن بندے کی خصوصیت ہیں ، اور باقی لوگوں کی تقلید کرتی ہیں ، اور اہم ترین شخص سے جو نمائندگی کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ، ہمارے بزرگ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مضمون میں ان خصوصیات میں سے کچھ گفتگو کریں گے۔

رحیم کے بندوں کی خصوصیات

 عاجزی: میں کے طور پر آیات: (اور غلاموں الرحمن ہیں پر چلنے والوں کو زمین میں عاجزی) ، عاجزی یہاں وقار اور استحکام اور خاکساری اور مطلب یہ ہے کہ غلاموں کی الرحمن کے طور پر بیان کر خدا کے بغیر شائستہ آپ بڑھنے اپ ، دوسروں سے بہتر خود نظر نہیں آتا، نہیں کے طور پر خدا تعالی کی طرف سے برکت بھی اگر دوسروں کے ساتھ برکت ہے۔ جاہل اور رواداری سے اجتناب: جیسا کہ آیات میں ہے: (اور جب جاہلوں نے انہیں مخاطب کیا تو انہوں نے سلام کہا) ، یعنی رحیم کے بندے ، بیمار ہونے والوں کو نظرانداز کریں ، اور معاف کردیں ، اور اگر جاہل لوگ ان کو برا بھلا کہتے ہیں اور اس کی عمدہ مثال کہتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمارے نبی. رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو نقصان پہنچے اور بری باتیں وہ کفار قریش سے برداشت کریں ، لہذا وہ ان سے تعزیت کرتا ہے اور انہیں معاف کرتا ہے ، اور ان کے اعمال کو اچھے اخلاق سے ملتا ہے۔ رات کو ثابت قدم رہو : جیسا کہ آیات میں ہے: (اور جو لوگ اپنے رب کے لئے نماز اور قیامت میں سجدہ کرتے ہیں) ، لہذا عبد الرحمن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ رات اور خدا کی عبادت کا بہترین وقت ، رات اور جادو کا وقت اٹھتا ہے ، اور وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور سوتا ہے ، اور خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ خدا کی طرف سے ، سونے اور آرام کرنے کے لئے. آگ کے عذاب کے خوف: آیات میں ہے: (اور جن لوگوں نے کہا، “اے ہمارے رب ، جہنم کے عذاب، اور بنی نوع انسان کی درد ہمیں سے مشغول ٹھیک ہے. اچھ givingے کاموں کو مختلف طریقوں سے حاصل کرنا ، خیرات دینے سے یا نقصان پہنچانے سے یا دوسرے نیک اعمال سے۔ اسراف نہیں کرنا: جیسا کہ آیات میں ہے: (اور وہ لوگ ، جب انہوں نے خرچ کیا ، ضائع نہیں کیا ، اور نہ ہی رہا ، اور ان میں طاقت بھی موجود تھی) ، لہذا عبد الرحمٰن یہاں خداوند متعال نے بیان کیا ہے ، اس سے دور ہے۔ خدا کی قسم۔ خدا میں مشغول نہیں: جیسا کہ آیات میں ہے: (اور وہ لوگ جو خدا کے ساتھ دوسرا معبود نہیں کہتے ہیں) ، عبد الرحمٰن نے یہاں خدا کے ذریعہ بیان کیا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ کسی اور چیز میں شامل نہیں ہے ، خواہ وہ اس کے دل ، اس کے کام یا اس کے ارادے میں ہے ، تاکہ وہ اپنے تمام کاموں کو اکیلا ہی اللہ تعالی کے لئے بچائے ، اور یقین ہے کہ نہیں۔ اس کے لیے. توبہ: جیسے آیات میں: (سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کرتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں) ، سب سے اچھے گنہگار وہ لوگ ہیں جو توبہ کرتے ہیں ، اور عبد الرحمٰن ان کی صفات میں سے ایک ہے کہ وہ خدا سے توبہ کرتا ہے ، اس کی طرف لوٹتا ہے اور اس سے توبہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور جو اس کے دل میں یقین رکھتا ہے کہ خدا اسے معاف کردے گا۔ بغیر کسی حق کے شخص کو قتل کرنے اور زنا سے دور رہنا: جیسے آیات میں ہے: ( اور وہ اس روح کو نہیں ماریں گے جو خدا کو روک کر حق کے سوا منع کرے ) ، (اور زناکاری نہ کریں )۔ ہر طرح کی نافرمانی کو حرام کاری پر رکھنا ، لہذا وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنے حص passوں کو برقرار رکھتا ہے۔ بیکار تقریر سے دور رہنا : جیسا کہ آیات میں ہے: ( اور جو باطل کے گواہ نہیں ہوتے اور اگر وہ محاورہ سے وقار سے گزر جاتے ہیں ) اور محاورہ وہ تقریر ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اور جھوٹی گواہی ہی جھوٹی گواہی ہے۔ وہ جو اچھی اولاد کی تلاش کرتا ہے: جیسا کہ آیات میں ہے: ( اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے ہمیں اپنی بیویوں سے ہم سے نوازا ہے ، اور ہماری اولاد عین کا قرآن ہے ) ، لہذا خدا کا بندہ راستباز ہے۔
ANS 05

لما أردت كتابة مقالات في بعض أنواع المعاملات المالية ولا سيما المعاصرة منها خطر ببالي أنه يجدر بي قبل ذلك أن أقف مع مفهوم المعاملات المالية أولا، لكي يكون التصور لدى القارئ تاما، والمعلومة مكتملة.

ولذا خصصت المقالات الأولى لمفهوم المعاملات المالية وتقسيماتها وبعض القواعد الناظمة لها وغير ذلك مما يكون كالتوطئة والتمهيد للحديث عن بعض أنواع تلك المعاملات.

إن المعاملة من صيغتها التفاعلية تقتضي المشاركة والتفاعل بين طرفين فأكثر غالبا*. والطرفان، هما العاقدان، ويسميان: البائع والمشتري في باب المعاوضات، والمحيل والمحال عليه في باب الحوالة، والواهب والموهوب له في باب الهبة، والراهن والمرتهن في باب الرهن، والمقرض والمقترض في باب القرض، والمضارِب والمضارَب في باب المضاربة، وهكذا، فالعاقدان هما طرفا المعاملة، والمعاملة هي عين العقد الذي يتم بينهما من بيع أو شراء أو هبة أو وقف وهكذا .

و المالية: نسبة إلى المال، وهو في اللغة ما يقتنى ويملك من جميع الأشياء: قال في لسان العرب: ( المال معروف ما ملكته من جميع الأشياء، ومال الرجل يمول مولا ومؤولا إذا صار ذا مال، وتصغيره مويل)([1]).

واشتقاقه من الميل لأن طباع الناس تميل إليه ويميلها، ولهذا سمي مالا([2]).

أما المال اصطلاحا: فقد اختلفت تعريفات الفقهاء والباحثين فيه؛ نظرا لاختلاف وجهات نظرهم في المعاني الاصطلاحية المرادة منه، واختلاف المأخذ والوجهة التي عرفوه منها، فمنهم من عرفه بصفته، ومنهم من عرفه بوظيفته، ومنهم من عرفه بحكمه . .  إلا أن المؤثر الرئيس في اختلافهم والذي كان له أثر حقيقي على الفروع، هو اختلاف الأعراف فيما يعد مالا وما لا يعد، وذلك أنه ليس له حد في اللغة ولا في الشرع، فحكم فيه العرف([3])  وهذه أهم تعريفاتهم له :

أولا: تعريف الحنفية: وقد قالوا: (هو اسم لما هو مخلوق لإقامة مصالحنا به، ولكن باعتبار وصف التمول، والتمول صيانة الشيء وادخاره لوقت الحاجة، أو ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة )([4]).

ثانيا: تعريف المالكية: قال الشاطبي رحمه الله: ( المال ما يقع عليه الملك ويستبد به المالك عن غيره إذا أخذه من وجهه )([5]).

وبعض المالكية يضيف الأيلولة وهي اعتبار ما يؤول إلى المالية فيعد مالا من حيث أحكامه، جاء في حاشية الصاوي على الشرح الصغير بتصرف: ( وَلِمَا لَيْسَ بِمَالٍ وَلَا آيِلٍ لَهُ – أي للمال -كالشفعة وجرح الخطأ والكتابة وادعاء النكاح بعد الموت ونحوه فكله يؤال إلى المالية فيثبت بشاهد وامرأتين)([6]).

والشاهد إلحاق ما يؤول إلى المالية بالمال في أحكامه ولذا لابد من مراعاة ذلك عند تعريف المال.

ثالثا: تعريف الشافعية: نقل السيوطي رحمه الله عن الإمام الشافعي أنه قال: (لا يقع اسم مال إلا على ما له قيمة يباع بها وتلزم متلفه وإن قلت، وما لا يطرحه الناس مثل الفلس وما أشبه ذلك)([7]).

رابعا: تعريف الحنابلة للمال: جاء في الإقناع من كتب الحنابلة: (هو ما فيه منفعة مباحة لغير حاجة أو ضرورة)([8]).

والمتأمل في هذه التعريفات يجد أنها تتمايز إلى مسالك ثلاثة هي:

مسلك الحنفية: ويقتضي عدم اعتبار المنافع مالاً لأنها لا تدخر.

مسلك الشافعية والحنابلة: ويشمل مصطلح المال عندهم الأعيان والمنافع.

مسلك المالكية: ويشمل مصطلح المالية عندهم بالإضافة إلى الأعيان والمنافع (الأيلولة أي اعتبار مالية ما يؤول إلى المال في جواز الاعتياض عنه، ولقد أشار إليها المالكية في باب الشهادات باعتبار أنما يؤول إلى المال بوجه من الوجوه كالمال في نصاب الشهود ومثلوا لذلك بجرح الخطإ والشفعة والجراح التي لا قصاص فيها “ولما ليس بمال ولا آئل له” كما قال خليل..ولكنهم كانوا أصرح في اعتبار بعض الحقوق قابلة للعوض كتنازل الضرة عن نوبتها بعوض …

ولهذا فإنَّ مجال المالية يمكن أن يوسع بنظرة مقاصدية تعتمد مذهب مالك، ويمكن أن تحل الإشكالات في العقود الحديثة؛ لتجيز الاعتياض عن فعل، أو امتناع عن فعل لصالح جهة ما وبخاصة في الخيارات)([9]).

ولعل تعريف المالكية هو الأقرب؛ لتناوله الأعيان والمنافع والحقوق وما يؤول إلى المالية ولو لم يكن مالا بذاته، ولنظرته المقاصدية التي قد تسهم في علاج كثير من المشاكل الشائكة في العقود الحديثة لتجيز الاعتياض عن فعل أو امتناع عن فعل لصالح جهة ما وبخاصة في مجال الخيارات في البورصة الدولية، كما يحفظ الحقوق المعنوية التي لها قيمة مادية كحقوق الابتكار والحقوق الذهنية مثل برامج الكمبيوتر والكتب وغير ذلك.

ويمكن صياغة تعريف جامع لما ذهب إليه أصحاب المسلكين الثاني والثالث فنقول:

(المال هو ما كانت له قيمة عرفا حالا أو مآلا وجاز الانتفاع به اختيارا لا اضطرارا. ) وهذا التعريف قريب مما جاء في معجم لغة الفقهاء من تعريف المال بأنه: ( كل ما يمكن الانتفاع به مما أباح الشرع الانتفاع به في غير حالات الضرورة) ([10]) لكن فيه زيادة الأيلولة التي أضافها المالكية.

وبعد أن عرفنا مفهوم المعاملات والمال باعتبار الإفراد، لا بد أن نعرف مصطلح المعاملات المالية باعتباره علما:

ومن خلال ما ذكر في معنى مفردتي هذا المصطلح يمكن تعريفه باعتباره علما لباب من أبواب الفقه بأنه :علم ينظم تبادل الأموال والمنافع بين الناس بواسطة العقود والالتزامات.

لكن يلاحظ على هذا التعريف تناوله للأحكام فقط بينما يطلق مصطلح المعاملات المالية أحيانا على ذات الفعل الذي يقع فيه التعامل بين الناس كما يطلق على الأحكام المتعلقة بتلك الأفعال المشتركة ([11])من عقود وشروط وخيارات وغيرها.

ولذا لو قلنا في تعريف هذا المصطلح بأنه: الأحكام والأفعال المتعلقة بتصرفات الناس في شؤونهم المالية.. لكان أجمع لشموله للمعنين اللذين يأتي لهما ويطلق عليهما

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *