AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 1659 Spring 2020

ہم آپکو فری اسائنمنٹس دے رہے ہيں براۓ مہربانی ہماری ويب سائٹ کو لائک کريں شکریہ

AIOU Solved Assignments code 1659 Spring 2020 Assignment 1& 2  Course: Teaching of Urdu (1659)   Spring 2020. AIOU past papers

ASSIGNMENT No:  1& 2
Teaching of Urdu (1659) B.Ed Semester
Spring, 2020

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 1659 Spring 2020

q1 1

ANS 01

اردو پاکستان کی قومی، علمی اور ثقافتی زبان ہے۔ اگر چہ اس زبان کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے تاہم یہ بڑی جامع زبان ہے۔ اس کی اپنی تاریخ ہے اور اس کے دامن میں بڑی وسعت ہے۔ اردو زبان کا شمار بھی دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ یونیسکو کے اعداد دوشمار کے مطابق عام طور پر بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعدیہ تیسری بڑی زبان ہے اور رابطے کی حیثیت سے دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے ۔ کیونکہ برصغیر پاک و ہند اور دنیا کے دوسرے خطوں میں ۸۰ کروڑ سے زیادہ افراد اسے رابطے کی زبان کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں ۔ اردو مشرق بعید کی بندرگاہوں سے مشرق وسطی اور یورپ کے بازاروں ، جنوبی افریقہ اور امریکہ کے متعدد شہروں میں یکساں مقبول ہے۔ یہاں ہر جگہ اردو بولنے اور سمجھنے والے مل جاتے ہیں۔ یہ زبان ایک جاندار اظہار اور اظہار کا جان دار ذریعہ ہے۔
اردو زبان کو تو عام طور پر سولہویں صدی سے ہی رابطے کی زبان تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اس رابطے کی توسیع عہد مغلیہ میں فارسی زبان کے واسطے سے ہوئی۔ اردو زبان کی ساخت میں پورے برصغیر کی قدیم اور جدید بولیوں کا حصہ ہے۔ یہ عربی اور فارسی جیسی دو عظیم زبانوں اور برصغیر کی تمام بولیوں سے مل کر بننے والی ، لغت اور صوتیات کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی اور قبول عام کے لحاظ سے ممتاز ترین زبان ہے۔
اردو ایک زندہ زبان ہے اور اپنی ساخت میں بین الاقوامی مزاج رکھتی ہے۔ یہ زبان غیر معمولی لسانی مفاہمت کا نام ہے۔ اس کی بنیاد ہی مختلف زبانوں کے اشتراک پر رکھی گئی ہے۔ اردو گویا بین الاقوامی زبانوں کی ایک انجمن ہے
۲؂ ۔ ایک لسان الارض ہے۳؂ جس میں شرکت کے دروازے عام و خاص ہر زبان کے الفاظ پر یکساں کھلے ہوئے ہیں ۔ اردو میں مختلف زبانوں مثلاً ترکی ، عربی فارسی ، پرتگالی، اطالوی، چینی ، انگریزی ، یونانی، سنسکرت اور مقامی بولیوں اور بھاشایا ہندی سے لیے گئے ہیں۔
غیر زبانوں سے جو الفاظ براہ راست اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں شامل ہو گئے ہیں ان میں
۴؂ ۷۵۸۴ الفاظ عربی کے، ۶۰۴۱ الفاظ فارسی کے، ۱۰۵ الفاظ ترکی کے، گیارہ الفاظ عبرانی کے اور سات الفاظ سریانی زبان کے ہیں۔ مزید یہ کہ یورپی زبانوں میں سے انگریزی کے پانچ سو، اور ایک سو ترپن ایسے ہیں جو مختلف یورپی زبانوں ، یونانی، لاطینی ، فرانسیسی، پرتگالی ، اور ہسپانوی زبانوں سے مستعار لیے گئے ہیں ۔
اردو میں شامل اصل دیسی الفاظ کا تناسب سواتین فیصد ، سامی ، فارسی، اور ترکی زبان کے الفاظ تقریباً
۲۵فی صد اور یورپی الفاظ کا تناسب صرف ایک فی صد ہے۔ اس جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو ایک بین الاقوامی مزاج کی حامل زبان ہے۔ اس میں نہ صرف عربی، فارسی یا مقامی بولیوں کے الفاظ ہیں بلکہ دنیا کی ہر قوم اور ہر زبان کے الفاظ کم و بیش شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے مزاج میں لچک اور رنگارنگی ہے لیکن وہ کسی زبان کی مقلد نہیں ہے، بلکہ صورت اور سیرت دونوں کے اعتبار سے اپنی ایک الگ اور مستقل زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔
غیر زبانوں کے جو الفاظ اردو میں شامل ہیں وہ سب کے سب اپنے صلی معنوں اور صورتوں میں موجود نہیں بلکہ بہت سے الفاظ کے معنی، تلفظ، املا اور استعمال کی نوعیت بدل گئی ہے ۔ اردو مخلوط زبان ہونے کے باوجود اپنی رعنائی، صناعی اور افادیت کے لحاظ سے اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے اپنی ساخت ، مزاج اور سیرت کو دوسری زبانوں کے تابع نہیں کیا۔ ان ہی ظاہری ومعنوی خصوصیات اور محاسن کے اعتبار سے یہ دنیا کی اہم زبانوں میں شمار کی جاتی ہے۔
’’ کسی زبان کی آوازوں اور کلمات کوضبط تحریرمیں لانے کے لیے جو مربوط نظام وضع کیا جاتا ہے اسے رسم الخط کہتے ہیں ۔ علمائے لسانیات کے نزدیک ایک اچھے رسم الخط کے لیے ضروری ہے کہ اس میں زبان کی ہر آواز کے لیے ایک مخصوص نشان ہو جو اس آواز کو واضح طور پر ادا کر سکے اور دوسرے وہ رسم الخط کی صورت کے لحاظ سے جاذب نظر اور عملی لحاظ سے سہل ہو‘‘ (
۵ )
اردو رسم الخط زبان کی ساری مروج آوازوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اردو کے حروف بناوٹ کے لحاظ سے حددرجہ سادہ اور اشکال کے اعتبار سے بہت کم ہیں ۔ اردو زبان اپنے الفاظ کی بناوٹ کی بناء پر دنیا کی ہر زبان کے مقابلہ میں لکھنے ، پڑھنے اور سیکھنے کے حوالے سے آسان ترین زبان ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں اخذ و جذب کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ یہ ایک قائم بالذات زبان ہے۔ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دوسری زبانوں سے مفید مطلب الفاظ لے لیتی ہے۔ اگر وہ لفظ اس کے مزاج کے ہم آہنگ ہے تو جوں کا توں رہنے دیتی ہے اور اگر ہم آہنگ نہیں ہے تو اس کو ہم آہنگ بنا لیتی ہے۔ اردو اپنے مزاج میں وسیع القلب زبان ہے۔
اردو میں الفاظ سازی کی بھی گنجائش ہے۔ کسی زبان کی ترقی کا انحصار اس کی الفاظ سازی کی اہلیت اور انھیں برتنے کی قوت پر ہوتا ہے ۔ اردو میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت اردو زبان میں عام طور پر استعمال ہونے والے لفظوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے۔ اصطلاحی الفاظ ان کے علاوہ ہے۔ الفاظ کا اتنا بڑا ذخیرہ انگریزی کے علاوہ غالباً کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ اور چونکہ بین الاقوامی مزاج کی حامل زبان ہے اور اس حیثیت سے اصلاحات سازی کی عالمی کوششوں سے یکساں استفادہ کر سکتی ہے۔
اردو زبان اپنی لسانی مفاہمت اور افادیت کے علاوہ اپنے اندر ایک تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتی ہے۔ یہ اپنے علمی ، ادبی اور دینی سرمائے کے اعتبار سے بڑی باثروت زبان ہے ۔ اردو میں وسعت پذیری کی بے پناہ طاقت موجود ہے۔ یہ جتنی وسیع ہے اتنی ہی عمیق بھی ہے۔ دینی اور دینوی علوم و فنون کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ پھر بھی اس کی گنجائش بے اندازہ ہے ۔ اردو زبان ہماری تہذیب و ثقافت کی آےئنہ دار ہے ۔ دنیا کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اگرچہ یہ کم عمر ہے لیکن ادبی اور لسانی حیثیت سے اس کا پلہ سینکڑوں زبانوں پر بھاری ہے۔ اردو زبان میں ہماری تہذیب و ثقافت کی تاریخ محفوظ ہے۔ اس کی بدولت ہم اپنے آپ کو ایک متمدن اور ترقی یافتہ قوم کا جانشین خیال کرتے ہیں۔
اردو چونکہ بین الاقوامی مزاج رکھتی ہے اس لیے نہ وہ مغرب کے لیے اجنبی ہے نہ مشرق کے لیے۔ یورپ کے لوگ کئی صدیوں سے اردو زبان سے واقف ہیں اور انہوں نے اس زبان میں گراں قدر علمی و ادبی کارنامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ یورپ کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں اردو زبان و ادب کے تراجم پر کئی زبانوں میں کام ہو رہا ہے ۔ اسی طرح اردو میں بھی متعدد زبانوں کی تخلیقات کے تراجم ہوئے اور ہو رہے ہیں ، لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر زبانوں کے تکنیکی، سائنسی اور علمی و فنی کتب و مضامین کو زیادہ سے زیادہ اردو کے قالب میں ڈھالا جائے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔ عصر حا ضر میں مختلف ملکوں پر زبانوں اور ان کے ادبی خزانوں تک رسائی آسانی سے ممکن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے ذریعے مختلف علاقوں کے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے مزید قریب آسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لسانی واادبی سرمائے کو سمجھ کر تہذیبی حوالوں ے ایک دوسرے کی شناخت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اردو زبان محبت کی سفیر ہے ۔ یہ مختلف ذہنی دھاروں سے تعلق رکھنے والے ، مختلف عقائدسے وابستہ ، مختلف مزاجوں کے حامل بڑے گروہوں کی تخلیقی و تصنیفی زبان ہے اور بول چال کی سطح پر دنیا کے لاتعداد ممالک میں وہاں کی گلیوں، کوچوں ، بازاروں اور گھروں میں اپنی زندگی کا ثبوت دے رہی ہے اور عالمی سطح پر اپنے حلقہ اثر میں وسعت پیدا کر رہی ہے۔
اگرچہ اس میں شک نہیں کہ اردو ایک جامع زبان ہے۔ تاہم اردو زبان کے تحفظ اور اس کی اہمیت کو تسلیم کروانے کے لیے ہمیں چند نکات پر سنجیدگی سے غور کرنا چائیے اور اس کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جانا چائیے۔ اول یہ کہ غیر ملکی زبانوں کے سائنسی علوم و فنون کو اردوکے قالب میں ڈھالا جائے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دوئم اردو کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہونی چائیے تاکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت واضح ہو سکے اور اس کا وقار قائم ہو۔اس کے علاوہ اردو دشمنی کے روئیے اور رجحان کا سدباب ضروری ہے۔
حواشی
۱۔ تاثرات گوپی چند نارنگ، اخبار اردو، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، مئی ۱۹۸۲ء
۲۔ تدریس اردو، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۸۶ء ص:۴
۳۔ اردو میں اصطلاحات سازی، ڈاکٹر عطش دُرّانی، اسلام آباد، انجمن شرقیہ علمیہ، ۱۹۹۲ء ص: ۳۲
۴۔ اردو زبان اور سماجی سیاق وسباق، پروفیسر عبدالستار دلوی، بمبئی، اقلیم پبلی کیشنز ۱۹۹۲ء ، ص: ۴۵
۵۔ کشاف تنقیدی اصطلاحات، مرتبہ ابوالاعجاز، حفیظ صدیقی، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۸۸ء، ص: ۸۸
O ’’اخبار اردو‘‘ کا نیا انداز ایسا خوبصورت اور پُرکشش ہے کہ میں تعریف کے لیے یہ خط لکھے بغیر رہ نہ سکی۔ پہلے بھی یہ رسالہ محققین، معلمین و متعلمین اور ادیبوں کے لیے خاصا وقیع تھا لیکن آپ نے اب اسے ہر صاحب ذوق اُردو دان کے لیے دلچسپی اور اپنائیت سے بھر دیا ہے جبکہ آپ نے علم و ادب اور زبان اردو کے سلسلے کی قیمتی معلومات کی ترسیل بھی جمیل و متاثر کن انداز میں جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ سب کام بہت اہم ہیں۔ میں اسے پاکستانی معاشرے میں خیر اور اچھائی کی تقسیم کرنے کا درجہ دوں گی۔
۔۔۔۔۔۔ناہید قاسمی،مدیرہ فنون، لاہور
O “اخبارِ اُردو ” اردو زبان کا منفرد رسالہ ہے جو اردو کی خدمت ،ترویج اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس کاہر شمارہ اپنے تحقیقی ،علمی اور ادبی تخلیقات کے لحاظ سے ملک کے ممتاز ادبی جرائد کے ہم پلہ ہوتا ہے۔فروری
۲۰۱۲ء کا شمارہ ادب، لسانیات، سائنس، نفسیات، تاریخ اور ترجمے کے فن پر مشتمل پاکستان کے نامور قلم کاروں کی تخلیقات کاگلدستہ ہے۔ ڈاکٹر انواراحمد ،سید سردار احمد پیرزادہ،سحر صدیقی، محمد رفیع ازہر، عظمت زہرا، ڈاکٹر نصراﷲناصر ،محمد اسحاق نقوی،ڈاکٹر آغا ناصر،عائشہ تنظیم، زکریا چودھری، ڈاکٹر ارشد خانم، قمرالدین خورشید،میاں غلام رسول عباسی،غازی علم دین،نیرّ عباس زیدی، ڈاکٹر غلام سرور،منیر احمد اور نبلیٰ پیرزادہ کی تحریریں قابل تحسین ہیں۔سید سردار احمد کا ابتدائیہ” خود انحصاری کا سفر ” قومی زبان کے عاشقوں کے لیے خوش خبری ہے۔ سحر صدیقی کے مضمون ” اردو زبان، عوام اور سینٹ کے ارکان‘‘ کا ایک جملہ” اس وقت پانچ ہزار زبانوں کے مرنے کا خطرہ لاحق ہے،اردو کو نہیں ہے،” اپنی امید افزائی کے اعتبار سے شاید کئی صفحات پر بھاری ہے۔محمد رفیع ازہر کا تحقیقی مضمون ” اردو زبان: پندرہ سال کب ختم ہوں گے !” ہرذی شعور پاکستانی کو پڑھنا چاہئے۔اس کے مطالعہ کے بعد قومی زبان کی اہمیت ،اس کی ترویج اور ترقی میں اپنا کردار کرنا شاید ہر زندہ ضمیر کے لئے ضروری ہو جائے۔عظمت زہراء نے امریکہ میں مقیم ماہرِ ارضیات ڈاکٹر غلام سرورکے پاکستان سے جذباتی لگاؤ اور پاکستان میں معدنی وسائل ،جدید ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسی تعلیم کے حوالے سے خیالات پیش کیے ہیں۔ڈاکٹر نصراﷲ خان ناصر نے ” سرائیکی دھرتی اور زبان سے اردو کے رشتے” میں سرائیکی اور اردوزبان کی تاریخ اور اردو زبان کی بناوٹ ، تخلیق اور ترویج میں سرائیکی کے کردار کے شواہد تلاش کیے ہیں۔سید محمد اسحاق نقوی نے ” انگریزی زبان میں دعوت ناموں کا رواج ” میں ایسے پڑھے لکھے لوگوں اور اداروں پر تعجب و تأسف کا اظہار کیا ہے جو قومی زبان کو نظرانداز کر کے غیر ملکی زبان میں دعوت نامے تیار کرتے ہیں۔ ایسے رویے ہم سب کے لیے المیے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر آغاناصر نے بلوچستان میں اردو شاعری کے درخشاں مستقبل کے امکانات کا احاطہ کیا ہے۔ زکریا چوہدری نے اردو زبان کے مستشرق ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کی کہانی بیان کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر ہم اپنی قومی زبان سے دلی رشتہ استوار کریں تو یہ صرف وفاقِ پاکستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے اربوں لوگوں کو بھی ایک کر سکتی ہے۔” ایک جنم دو یادداشتیں ” میں ڈاکٹر ارشد خانم نے انتظار حسین کی دو آپ بیتیوں ” جستجو کیا ہے؟” اور” چراغوں کا دھواں ” کو ان کی پریم کتھا قرار دیتے ہوئے ان پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔قمرالدین خورشید نے حافظ شیرازی اور اسداﷲ خان غالب کے اندازِ بیان اور شعری غنائیت کا ایک مختصر مگر جامع موازنہ کیا ہے۔فارسی شاعری میں حافظ کو جو مقام حاصل ہے وہی مقام اردو شاعری میں غالب کا ہے۔ ” لاہور ،لاہور اے ” میں عطاء الحق قاسمی نے لاہور کی عظمتِ رفتہ اور حا لیہ جدید ترقی کا ذکر کیا ہے۔ میاں غلام رسول عباسی نے ڈاکٹر عاصی کرنالی (مرحوم) کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے فکروفن کا احاطہ کیا ہے۔پروفیسر غازی علم دین نے الفاظ کے ا خلاقی انحطاط کا نفسیاتی پسِ منظر تلاش کرنے کی دل فریب کاوش کی ہے۔” گم شدہ جنگل ” کے عنوان سے نیرّ عباس زیدی نے نوبل انعام یافتہ ادیب جوھینزوجینسن کے ایک افسانے کا خوب صورت ترجمہ کیا ہے جس پر طبع زاد ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر غلام سرور نے مارک ٹوئین کی تمام تر ذہانت ، قابلیت اور علمیت کوچند جملوں میں پیش کر کے عمدہ کام کیا ہے۔اس کے علاوہ جوش ملیح آبادی کے ادبی کارناموں پر مفصل مضمون ، عاشق لکھنوی کا خاکہ، غزلیات، نئی کتابوں کا تعارف اور ان پر تبصرے ، یاد یں، ادبی خبریں اور تصویری حصہّ اردو ادب کے قارئین کے لیے تحفہ ہے

ANS 02

انگریزی اور اردو اندازِ تحریر اور انداز تکلم میں ایک بنیادی سا فرق ہے۔ اردو میں ہم الفاظ کی کثرت کو خوبی جانتے ہیں اور مبالغے سے کام لیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہمیشہ 21 کروڑ عوام کا مطالبہ بن کر صفحے پر اترتا ہے خواہ یہ مطالبہ ہماری گلی کا گٹر صاف کروانے کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہم تحریر پر اپنا نام لکھنا چاہیں گے تو عدنان خان لکھنا کافی نہیں ہے۔ ہم رجب علی بیگ سرور کی اتباع میں اپنی تحریر کے سرورق پر کچھ یوں رقم طراز ہوں گے: ”مصنفہ شاعر باکمال، نثار عدیم المثال، اسوۃ الفصحا، مداح خامس، خودستاں و مقرر جادو اثر و نثار زمان و داستان گوئے شیریں بیان، سخن سنج مصائب خواں، پسندیدہ مجالس امیران و رئیسان، سرآمد اہل فن ،رشک اہل ہنر، جناب عدنان خان صاحب متخلص بہ حیرت بیاں“۔

ہم لکھنے پر آئیں تو جدید دور کے مقبول ترین مصنفین میں سے ایک پاؤلو کوئلو کی سو ڈیڑھ سو صفحات کی کتاب کی بجائے روسی مصنفین از قسم لیو ٹالسٹائی کے ہزار پندرہ سو صفحات کے ناولوں کی اتباع کرنا مناسب جانتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے زمانہ بدل گیا ہے۔ اب نہ تو کسی کے پاس اٹھارہ سو کچھ کا لیو ٹالسٹائی پڑھنے کا وقت ہے اور نہ ہی رتن ناتھ سرشار کا دس بارہ ہزار صفحات پر مشتمل فسانہ آزاد۔

تو صاحبو آئے جدید انداز تحریر کی کچھ بات کر لیں۔ لیکن پہلے تحریر کے ان بنیادی قواعد کا ذکر کرنا مناسب ہو گا جن سے ہمارے نئے لکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد بے خبر دکھائی دیتی ہے۔

ہمارے زمانے میں پلے گروپ اور نرسری وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ سیدھا پہلی جماعت میں داخلہ ہوا کرتا تھا۔ پہلی جماعت میں الف ب اور اے بی سی سکھاتے سکھاتے دوسری جماعت میں چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے سکھائے جاتے تھے۔ اس وقت ہمارے اساتذہ جو پہلا اصول بتاتے تھے، وہ یہ تھا کہ جملہ ختم ہو تو اس کے آخر میں فل سٹاپ لگانا لازم ہے تاکہ پڑھنے والے کو پتہ چل جائے اور وہ اگلے جملے سے اسے جوڑ کر کنفیوز نہ ہوتا پھرے۔ اب شاید یہ بات نہیں سکھائی جاتی۔ تیس چالیس برس سے اوپر کے مصنف بھی فن تحریر کے اس بنیادی اصول سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ لکھنے کی بجائے تقریر کر رہے ہیں جس میں فل سٹاپ کی گنجائش نہیں ہوتی بس سننے والا خود فیصلہ کرے کہ کب جملہ ختم ہوا ہے۔

دوسری چیز کوما ہوتی ہے۔ جب کسی جملے کے درمیان توقف دینا ہو، یا کسی خاص جزو پر خاص توجہ دلانی مقصود ہو تو کومے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریز تو کومے کو اتنا زیادہ سیریس لیتے ہیں کہ ”آکسفورڈ کومے“ پر بے شمار کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ہمیں ابتدائی جماعتوں میں یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ ہر لفظ کے بعد کچھ سپیس چھوڑ کر اگلا لفظ لکھنا چاہیے تاکہ تحریر آسانی سے پڑھی جا سکے۔ مصنف اگر بنیادی رموز اوقاف، یعنی پنکچوایشن سے ہی واقف نہ ہو تو اس کے بارے میں اچھا تاثر نہیں ابھرتا ہے۔

ایک زمانے میں ایک استاد نے ہمیں ٹائپنگ سکھانے کی کوشش کی تھی۔ ٹائپنگ کے ساتھ ساتھ کتابت کے کچھ بنیادی اصول بھی بیان کیے تھے۔ ان میں سے ایک اصول یہ تھا کہ ہر کومے کے بعد ایک سپیس ڈالتے ہیں اور ہر فل سٹاپ کے بعد دو۔ کمپیوٹر پر ہماری نستعلیق کمپوزنگ میں ایک خامی یہ ہے کہ اس میں سپیس دکھائی نہیں دیتی۔ بہت سے مصنف الفاظ کے درمیان سپیس نہیں ڈالتے۔ کمپیوٹر پر کمپوزنگ کرتے ہوئے ب، ج، س وغیرہ جیسے حروف اپنے اگلے حرف سے مل جاتے ہیں لیکن د، ر، ڑ، الف وغیرہ جیسے حروف اپنے بعد میں آنے والے حرف سے نہیں ملتے۔ ہمارے بہت سے مصنف کمپوزنگ کرتے ہوئے اگلے حرف سے نہ ملنے کو لفظ کا اختتام قرار دے دیتے ہیں اور سپیس ڈالے بغیر اگلا لفظ لکھ دیتے ہیں۔ نسخ فونٹ میں یہ بات نمایاں طور پر دکھائی دے جاتی ہے کہ سپیس کہاں کہاں ڈالی گئی ہے۔ سپیس ڈالنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ گوگل پر جب کسی لفظ کو تلاش کیا جاتا ہے، تو سپیس کی وجہ سے تحریر کا ہر لفظ الگ سے انڈیکس ہو کر سرچ انجن میں آ جاتا ہے اور آپ کی تحریر سرچ ریزلٹ میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ تحریر ہمیشہ نسخ میں لکھنی چاہیے۔ تحریر مکمل ہونے کے بعد خواہ اسے نستعلیق میں منتقل کر دیا جائے۔

جہاں یہ معاملہ پیش آتا ہے کہ بہت سے مصنف ہر لفظ کے بعد سپیس نہیں ڈالتے، وہاں یہی مصنف ایک کرم فرمائی کرتے ہیں کہ لفظ کے درمیان سپیس ڈال کر اسے توڑ دیتے ہیں۔ سپیس کا درست استعمال کریں اور مستقبل سے مت کھیلیں کہ شاعر کہہ گیا ہے کہ
پہلے اس نے مُس کہا پھر تق کہا پھر بل کہا
اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کر دیے

اب آتے ہیں مختصر نویسی کی طرح۔ جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہوا، ہم مبالغہ پسند کرتے ہیں۔ الفاظ کی کثرت کو خوبی جانتے ہیں۔ جدید انداز تحریر میں کم سے کم الفاظ میں اپنا مدعا موثر انداز میں بیان کر دینے کو خوبی سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر تحریر کا پہلا ڈرافٹ لکھتے ہوئے جو چیز ذہن میں آئے وہ لکھ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کون سا لفظ یا جملہ ایسا ہے جو نکال کر بھی مطلب بخوبی بیان کیا جا سکتا ہے۔ پطرس بخاری ایک بہت بڑے رائٹر تھے۔ انہوں نے اردو کی مشہور ترین کتابوں میں سے ایک ”پطرس کے مضامین“ لکھی جو محض ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے معاصر بتاتے ہیں کہ پطرس ایک ایک جملے پر غور کرتے تھے کہ کون سا لفظ اور جملہ زائد ہے اور اسے نکالنے سے تحریر کا اثر زیادہ ہو گا۔ یوسفی بھی ایک اصول بیان کرتے ہیں کہ کتاب لکھ کر وہ اسے چھے ماہ کے لئے گھڑے میں ڈال کر بھول جاتے ہیں اور اس کے بعد پڑھتے ہیں۔

حالات حاضرہ پر لکھتے ہوئے یوسفی کا گھڑا استعمال کرنا ممکن نہیں۔ مگر پہلا ڈرافٹ لکھنے کے بعد اس پر ایک دو مرتبہ نظر ڈال لینی چاہیے کہ کیا نکالا جا سکتا ہے۔ الفاظ گننے کی عادت دالیں۔ آن لائن ڈیجیٹل دنیا میں مضمون کی آئیڈیل لمبائی 800 الفاظ کی ہے۔ آپ اگر اپنی بات دو تین مرتبہ ایڈٹ کرنے کے بعد 600 سے 800 الفاظ تک لے آنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے آپ کے مضمون کا اثر بھی بڑھے گا اور اسے زیادہ لوگ بھی پڑھیں گے۔ آپ اخبارات میں لکھاری کے طور پر کیرئیر بنانا چاہتے ہیں تو پھر بھی آپ کو الفاظ کی کسی مقرر کردہ حد کے اندر رہ کر ہی بات کرنی ہو گی۔ ورنہ ایڈیٹر آپ کے مضمون کو کاٹ پیٹ کر خود اس حد کے اندر لے آئے گا۔ اور اگر ایڈیٹر کے پاس کاٹنے پیٹنے کا وقت نہ ہوا تو آپ کی تحریر اٹھا کے ایک طرف رکھ دے گا۔ مائیکرو سافٹ ورڈ میں ریویو ٹیب میں جا کر ورڈ کاؤنٹ کا فیچر استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔ یہ ورڈ کاؤنٹ آپ کو ورڈ کی سٹیٹس بار میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

کسی آئندہ مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ متن کو کیسے واضح کیا جائے، کنفیوژن سے کیسے بچا جائے اور کس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے، جملوں کی کاٹ چھانٹ کر کے مختصر کرنے کی مثالیں دی جائیں گی۔

ANS 03

اس نظامِ تعلیم نے طبقاتی کشمکش کو جنم دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کو وجود میں آئے ۶۵ برس ہو چکے ہیں مگر ہم اب تک اس خرابی کی صورت کو رفع نہیں کر سکے اور دین و مروت کے خلاف سازش کو بظاہر سمجھنے کے باوجود ختم نہیں کر پائے۔ طبقاتی نظام کے باعث اردو کی تدریس و تعلیم صرف ایک طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ طبقہ وسیع ہونے کے باوجود کمزور اور بے اختیار ہے جو اس نظامِ تعلیم کے شکنجے سے نکلنے کی خواہش رکھنے کے باوجود بے بس اور مجبور ہے۔ ہم نے اب تک جتنے بھی تجربات کیے ہیں اس نظام کے اندر رہتے ہوئے کیے ہیں۔ نصابِ تعلیم کئی مرتبہ تبدیل ہوا ہے مگر تبدیلیاں ایک خاص طرح کے خاص دائرے سے باہر نہیں ہوتیں اور ان تبدیلیوں کے لیے صرف اسی نصابِ تعلیم کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ایک کمزور اور بے اختیار طبقے کے لیے رائج ہے۔ ملک کا طاقتور طبقہ اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے غیر ملکی آقائوں کی زبان اور افکار پر مبنی نصابِ تعلیم رائج کر کے حکمرانہ ذہنیت پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس طرح ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو آزاد ہونے والے ملک کے اندر ہی غلامی اور آزادی کے واضح تصورات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کا تصور عالمِ اسلام کے مفکرِ اعظم نے پیش کیا تھا اور جس کے قیام کا محرک دو قومی نظریہ تھا۔ اگر ہم نظریہ پاکستان کے تشکیلی عناصر پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ نظریہ دو اجزاء کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے ایک ہمارا دینِ اسلام اور دوسرا ہماری زبان اردو۔۔۔۔ اگر دونوں میں سے ایک کو اس نظریے سے خارج کر دیا جائے تو اس کی عمارت منہدم ہو جائے گی۔ لہٰذا ہمیں ان دونوں عناصر کا تحفظ کرنا ہو گا۔
اور یہ تحفظ ایک نئے انداز کے نصابِ تعلیم کو مرتب کیے بغیر ممکن نہیں ایک ایسا نصابِ تعلیم جس میں اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کو نظریہ کی تفہیم و تحفظ کا ذریعہ بنایا گیا ہو۔ ابتدائی درجوں میں جب ایک بچہ الف ب سے آگے بڑھے گا تو اس کے دینی اور حب الوطنی کے تصورات بھی اس کی ذہنی استعداد کے ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گے۔ الف سے اللہ کہنے والے چار پانچ سال کے بچے کو یہ معلوم ہو جائے گاکہ اس کا کوئی خالق ہے جس کی پوری کائنات پر حکومت ہے۔ یہ پہلا سبق اگر اس کی سمجھ میں آ گیا تو اپنے دین سے دور نہیں جا سکے گا۔ چھوٹے بچے کو ابتداء ہی سے اردو کی اہمیت سے آشنا کیا جائے اور غیر محسوس طریقے سے یہ باور کرایا جائے کہ اردو سے محبت اصل میں وطن سے محبت ہے۔ نصابی کتب کی تیاری کے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ اسے کس سطح کے بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت عام تعلیمی اداروں میں اردو اعلیٰ ثانوی درجوں تک ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ اگر اس مضمون کی نصابی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا یہ کتب انتہا ئی عجلت میں بغیر سوچے سمجھے مرتب کی گئی ہیں۔ کسی ایک کتاب کے مکمل مطالعے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ساری کتاب پڑھانے کا مقصد کیا ہے۔ جماعت نہم کے لیے اردو کی ترتیب دی ہوئی کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ
۱۴/۱۳سال کے بچے کو ایک استاد کس طرح بتائے گا کہ غزل کیا ہوتی ہے۔ غزل کے لفظی معنی اور اس کے مضامین کی وسعت کوکیسے سمجھا سکے گا۔ جب کہ یہی بات ایم اے کی سطح پر پڑھانے والا ایک استاد بھی کما حقہ نہیں سمجھا پاتا۔ اس کتاب میں بہت سے مقامات ِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ کتاب کا آغاز سرورِ کائنات ﷺ کی سیرت کے حوالے سے ایک مضمون سے ہوتا ہے۔ اس مضمون سے کچھ فاصلے پر مرزا کے عادات و خصائل کے عنوان سے مولانا حالی کی تحریر ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غالب رمضان المبارک میں ایک روزہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ اس مقام پر نویں جماعت کا ایک معصوم طالب علم یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا مرزا غالب مسلمان نہیں تھے؟ استاد اس سوال کا جو جواب بھی دے بچہ اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی طرح کے تضادات اور الجھنیں اس وقت رائج تمام نصابی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اعلیٰ ثانوی درجوں کے لیے نیشنل بک فائونڈیشن کی تیار کی ہوئی کتاب سرمایہ ِ اردو کا حال یہ ہے کہ ہر صفحے پر املا کی اور کمپوزنگ کی غلطیاں ہیںاور کتاب میں ایسے اسباق شامل ہیں جن کی وجہ سے واقعی ایک سائنس کا طالب علم اردو کو اپنے لیے بارِ گراں سمجھنے لگتا ہے۔ ایک نجی ادارے کی شائع کردہ آٹھویں جماعت کے لیے اردو کی کتاب اگرچہ اس لحاظ سے قابل ِ تحسین کوشش ہے کہ وہ ایک نظریاتی ملک کی کتاب محسوس ہوتی ہے مگر اس کے مضامین ِ نظم و نثر آٹھویں جماعت کے طلبہ کی ذہنی استعداد سے کہیں زیادہ بوجھل ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں میر انیس کی رباعیات بھی شامل ہیں۔ ایسی نظمیں شامل ہیں جو ایک عام قسم کا شاعر بھی صحت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔ بہت زیادہ مشکل الفاظ اور تراکیب کی وجہ سے اس کتاب کے مضامین نظم و نثر بچوں کی ذہنی استعداد سے مطابقت نہیں رکھتے۔
میری ان گزارشات کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو بچہ سمجھا جائے اور اس کی ذہنی استعدادکا خیال رکھتے ہوئے اس کے لیے نصاب مرتب کیا جائے ورنہ وہ اسے بوجھ سمجھتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرے گا۔ نصابی کتابوں میں تحریک ِ پاکستان سے متعلق تو اکا دکا مضامین نظر آ جاتے ہیں مگر تاریخ ِ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ مثلاً
۱۹۷۱ء میں پاکستانی قوم ایک ایسے سانحے کا شکار ہوئی جو پوری دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عبرت ناک تھا۔ اس سانحے اور اس کے اسباب کا کسی درسی کتاب میں ذکر نہیں ملتا۔ اس طرح ہمارے آبائو اجداد کے درخشاں کارناموں کو بھی بہت کم جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح قومی زبان کی تدریس و تعلیم کو غیر ضروری اور مشکل بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ بلا شبہ ہماری درسی کتب طلبہ میں اردو کی تعلیم کا شوق پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔
اس طرح ہمارے اساتذہ کے رویوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی اس کارِ خیر میں شریک نظر آتے ہیں۔ طلبہ کے لیے اپنے استاد کی شخصیت ایک نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ وہ غیر معیاری اداروں کی شائع کی ہوئی غیر معیاری گائیڈز کا خود بھی مطالعہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی مشورہ دیتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے لیے بظاہر آسانی پیدا کر لیتے ہیں مگر ان کے اس عمل سے طلبہ میں اپنی قومی زبان سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ وہ ایک بے گار سمجھ کر محض امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے حسبِ ضرورت اردو پڑھتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا سبب تدریسِ اردو کے مقاصد کا غیر واضح ہونا اور قومی تقاضوں سے ان کی عدم ہم آہنگی ہے۔ میں آخر میں یہ گزارش اور سفارش کروں گا کہ نئی نسل کو اردو پڑھانے کے مقاصد کو قومی تقاضوں کے مطابق از سرِ نومتعین کیا جائے۔ اس سلسلے میںمحترم ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے اتفاق کرتے ہوئے تدریسِ اردو کے مقاصد کے چیدہ چیدہ نکات پیش کرتا ہوں۔
۱۔ طلبہ کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا سکھانا۔
۲۔ اردو کے ذریعے ان میں صحیح اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنا۔
۳۔ اظہارِ خیال کے ذریعے بچوں کی نفسیاتی تسکین اور طمانیت کا سامان فراہم کرنا۔
۴۔ اظہارِ خیال پر قابوپانے کے لیے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا۔
۵۔ غور و فکر اور مشاہدہ ومطالعہ کا شوق پیدا کرنا۔
۶۔ اردو زبان و ادب کی قدرو منزلت کا احساس پیدا کرنا۔
۷۔ طلبہ کے اندر چھپی ہوئی تخیلی، تخلیقی اور استحسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔
۸۔ پاکستانیت، آزادی اور سا لمیت کا تحفظ کرنا۔
۹۔ پاکستانیوں کو باہم تبادلہ خیال کے لیے مشترکہ ذریعہ مہیا کرنا۔
۱۰۔ مشترکہ ذریعہ اظہار کے توسط سے سیاسی و قومی یکجہتی پیدا کرنا۔
۱۱۔ عام معاشرتی زندگی میں سہولتیں پیدا کر کے کامیاب زندگی گزارنے کارستہ دکھانا۔
۱۲۔ ہم زبانی و ہم خیالی کے ذریعے پاکستانی قومی کردار کی تشکیل کرنا۔
۱۳۔ اساسی قدروں اور روایات کو محفوظ رکھنا اور فروغ دینا۔
۱۴۔دینی علوم کی ترقی و اشاعت میں آسانی پیدا کرنا۔
۱۵۔ موجودہ علمی ، ادبی تخلیقی و تحقیقی سرمائے کو محفوظ رکھنا اور اس میں روز بروز اضافہ کرنا۔
۱۶۔ زبان و خیال میں ہم آہنگی پیدا کر کے حصولِ تعلیم کو آسان بنانا۔
۱۷۔بلند پایہ مفکر، ادیب، شاعر، سائنسدان، ڈاکٹر ، انجینئیر، ریاضی دان اور ماہرین پیدا کرنا۔
۱۸۔ اپنی چیزوں کی اہمیت کا احساس دلا کر ذہنی غلامی سے نجات دلانا۔
۱۹۔ وطن ، قوم اور مذہب کی اہمیت کا احساس دلانا اور ان کی خاطر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا۔
۲۰۔ ملک و قوم کو روحانی اور مادی ترقی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مہذب اور شائستہ بنانا۔
ایک نظریاتی ملک میں یہی تدریسِ اردو کے مقاصد ہیںاور یہی ہمارے قومی تقاضے ہیں۔ بہر حا ل میں جو مزید کہنا چاہتا ہوں علامہ اقبال کے ان اشعار کے ذریعے عرض کرتا ہوں۔
زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے، علم ہے سوزِ دماغ
علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ
اہلِ دانش عام ہیں کم یاب ہیں اہلِ نظر
کیا تعجب ہے کہ خالی رہ گیا تیرا ایاغ

ANS 04

یوں تو ہر نئے سیکھنے والے کے لیے رسم خط ایک مسئلہ ہوتا ہے مگر اردو رسم خط کے جو مسائل ہیں ان کی نوعیت جداگانہ ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر زبان کی اپنی مخصوص آوازیں ہوتی ہیں اور یہی آوازیں لفظ بن کر مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتی ہیں۔جن طالب علموں کو ذہن میں رکھ کر تلفظ کے مسئلے کا ذکر کر رہا ہوں وہ بہت حد تک اس مخصوص تہذیب اور اس زبان کی آوازوں سے واقف ہوتے ہیں البتہ چند آوازیں ایسی ہیں جن میں تمیز کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہے ۔جن کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں ۔

ایسے طالب علم عام طور پر ج اور ز کی آوازوں کو تو ضرو ر جانتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کی ادائیگی وہ صحیح طور پر نہیں کر پاتے یا ان میں تمیز نہیں کر سکتے ۔لیکن یہ دشواری تمام طالب علموں کے ساتھ نہیں کیونکہ ان میں سے تقریباًسبھی ایسے ہوتے ہیں جو انگریزی جانتے ہیں ۔اس لیے J اور Z کے فرق کو محسوس تو کرتے ہیں مگر اسے اپنی گفتگو میں کس قدر برتتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے۔ اردو رسم خط میں Z کی آواز کے لیے بالترتیب ذ ۔ ز۔ ض۔ظ چار حروف ہیں ۔ یہ آوازیں ان کے لیے کیوں کر پریشان کن ہوتی ہیں اس پہلو پر غور فرمائیں ۔ ان چاروں آوازوں (ذ ۔ ز۔ ض۔ظ) کے فرق کو ہم اور آپ بخوبی اپنی تحریروں میں ملحوظ رکھتے ہیں مگر کیا بول چال کی زبان میں خود اردو والے (جن کی مادری زبان اردو ہے) ان آوازں کے فرق نمایاں کر پاتے ہیں ؟۔میں قطعی طور پرنفی یا اثبات میں کچھ نہیں کہتا مگر آپ کسی ایسے جملے کو لیں جس میں یہ مختلف آوازیں شامل ہوں مثلاً

” استادا گر اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کو سمجھیں تو مجال ہے کہ کوئی نظر بھی اُٹھا سکے یا باز پرسی کی ہمت کرے۔“ آپ خود اس جملے کو دُہرائیں ۔اس جملے میں پانچ آوازیں موجود ہیں مگر بیشتر حضرات کے تلفظ سے سوائے ج اور ز کے کوئی فرق نمایاں نہیں ہوگا۔ اسی طرح ع کی آواز کو دیکھیں جب ہم جمعہ ، وعدہ ،طبیعت ، جمع وغیرہ بولتے ہیں تو کیا ع کی آواز کو پورے طور پر واضح کر پاتے ہیں یا خطاب ، خطا ، خط ، اور تماشہ ،تمام ، تاریک وغیرہ میں تلفظ کے لحاظ سے ط اور ت میں کیا فرق کرتے ہیں ؟ نئے سیکھنے والوں کے لیے یہی پریشانی کا سبب ہوتا ہے کیونکہ جو چیزیں Practice میں ہوتی ہیں ان کا سیکھنا اور سکھانا آسان ہے لیکن جو Practice میں نہیں ہیں ان کا سیکھنا سکھانا دونوں مشکل ہے۔ اسی لیے نو خواندہ اور نو آموز طلبہ اکثر پوچھتے ہیں کہ ایک ہی حرف کے لیے اتنے حروف کی کیا ضرورت ہے ؟انھیں مطمئن کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔جب تک اُن کو اِن آوازوں کے طریقِ ادائیگی اور مخارج کی باریکیوں سے آپ بخوبی واقف نہ کرائیں گے وہ مطمئن نہیں ہوں گے اور یہی باریکیاں اردو کی نزاکتیں بھی ہیں اور حُسن بھی لہٰذا یہ مسئلہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جس زبا ن سے ہم نے اِن آوازوں کو لیا ہے وہا ں تو باقاعدہ فنِ تجوید موجود ہے ، جہاں تمام تر نزاکتوں کو بخوبی برتنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔مگر ہم ہندستانی مزاج کے مطابق تلفظ کرتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے اساتذہ یا اہل زبان اِن باریکیوں کو نہیں سمجھتے ہیں یا نہیں برتتے ہیں مگر کلا س روم میں جہاں طلبہ کی اچھی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے وہاں ان کی افہام و تفہیم اور مشق کے لیے کون سا طریقہ اپنایا جائے جو مفید ہو اس پر بھی غور کرناچاہیے۔

طریقِ کار:

۱۔ اوٌل تو یہ کہ استاد اِن آوازوں کو خود ادا کریں اور طلبہ اس کو دُہرائیں پھر لفظوں کے ذریعے ان آوازوں کے طریقِ استعمال اور طریقہٴ ادائیگی کو سمجھایا جائے۔ساتھ ہی بلیک بورڈ پر نقشے کے ذریعے ان کے مخارج کی نشاندہی کی جائے ۔اب تک زبان کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں انہی طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہاہے لیکن اگر ہم اس کے لیے جدید سمعی اور بصر ی امدا د کا بھی استعمال کریں تو کم سے کم وقت میں خفیف سے خفیف فرق کو بخوبی سمجھا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید Language Lab اور Audio ,Video کیسٹ وغیرہ کے استعمال کا اہتمام کرنا چاہیے اور نصاب میں ایسے اسباق شامل کیے جانے چاہیئے جن میں ان حروف مثلاً ص، ض ، ط ، ظ، ع ، غ ، ذ ، ز ، ژ وغیرہ کے لیے الگ الگ اسباق مختص ہوں اور کثیر الاستعمال الفاظ کو ان اسباق میں شامل کیا جانا چاہیئے اور معلم کی یہ کوشش رہے کہ طلبہ ان آوازوں کے مخارج کو بھی سمجھیں اور ان کی ہجے بھی یاد کریں تاکہ جب ان سے املا (Dictation ) لکھوائی جائے تو آوازوں کے مخارج سے حروف کو پہچان سکیں اور املا میں غلطی نہ کریں ۔الفاظ کی ہجے یاد کرانے میں اس بات پر زور دیا جائے کہ طلبہ الفاظ کو پورے Figure کے ساتھ ذہن نشیں کر نے کی کوشش کریں ۔

۲۔ دوسرا مسئلہ رسمِ خط کا ہے ۔ اردو رسمِ خط کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی پریشانیا ں سامنے آتی ہیں ۔مثلاً زبا ن کی تدریس میں بولنے ، سننے اور پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا عمل بھی نہایت اہم ہے جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے ۔اردو چونکہ مختلف طریقوں سے لکھی جاتی ہے مثلاً خط ِ نسخ ، خط ِ شکستہ اور نستعلیق وغیرہ ساتھ ہی کتاب کی تحریر اور ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں بھی کافی فرق ہوتا ہے جو طلبہ کے لیے پریشانی کا سبب ہوتا ہے ۔کیونکہ ان دونوں طرح کی تحریروں سے طلبہ کو بیک وقت سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ استاد کے ذریعے بلیک بورڈ پر لکھے ہوئے حروف اور الفاظ ،کتاب کے حروف اور الفاظ سے بہت حد تک مختلف ہوتے ہیں ۔لہٰذا اس سلسلے میں بھی غور وفکر کی ضرورت ہے کہ پڑھاتے وقت اور بلیک بورڈ پر لکھتے وقت استاد کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ رواں تحریر نہ لکھے بلکہ اگر کتابت کے اصول و ضوابط سے واقف ہو تو زیادہ مناسب ہے ۔یا کیا نئے سیکھنے والوں کے لیے رواں تحریر میں لکھی ہوئی کتاب تیار کی جانی چاہیے یہ بھی قابل ِغور ہے۔

۳۔ اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ الفاظ کی شناخت کا بھی ہے کیونکہ وہ جس رسم ِ خط کو جانتے ہیں میری مراد ہندی اور انگریزی سے ہے ، یہاں الفاظ جداگانہ طور پر بآسانی پڑھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہندی میں ایک لفظ کے مختلف حروف کے اوپر ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک لفظ دوسرے لفظ سے واضح طور پر الگ ہو جاتا ہے اور انگریزی میں ایک لفظ اور دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ ہوتا ہے اور ایک لفظ کے تمام حروف باہم مربوط ہوتے ہیں۔اردو میں بھی اگرچہ اس طرح کا اہتمام ہے مگر بہت واضح نہیں بالخصوص مرکب الفاظ میں اور بعض اوقات ہم شکل حروف و الفاظ میں قرأت کی پریشانی تو بہر حال ہوتی ہے مثلاً ” یہ منزل دورودرازاور بہت کٹھن ہے ۔“ اس جملے میں ”دورودرازاور “ کو پڑھنے میں نئے طالب علموں کو کئی طرح کی پریشانی ہوتی ہے ۔ اوٌل تو یہ کہ کون سے حروف ایک دوسرے سے مل کر پڑھے جائیں گے اور کون سے حروف مصوتے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر اصل مقصد تو اس طرح کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے تواس طرح کے مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

تجاویز:

۱۔ ابتدائی سطح کے نصاب کی کتابوں کی کتابت اور طباعت کا خاص اہتمام ہو جس میں ایک لفظ سے دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ رکھاجائے ۔

۲۔ اعراب یعنی مختلف آوازوں کے لیے جو علامتیں مخصوص ہیں ان کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائے ۔ اور ابتدائی سطح کی کم ازکم دو تین کتابیں جو یکے بعد دیگرے ان کو پڑھا ئی جانے والی ہیں ان سبھوں میں اگر اعراب کا استعمال ہو تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ان کے پاس الفاظ کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو جائے گااور وہ الفاظ ان کو ازبر بھی ہو جائیں گے اس کے بعد اگر ان کے سامنے ایسی کتاب آئے گی جن میں اعراب کا استعمال کم سے کم بھی ہو تو اسے پڑھنے میں نو آموز طلبہ کو اتنی پریشانی نہیں ہو گی ۔

۳۔ اردو کی ایسی آوازیں جو ان کے لیے بالکل نئی ہیں اور جن کی ادائیگی میں بھی خفیف فرق موجود ہے اسے سکھانے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ طلبہ سے اس طرح کی آوازوں پر مشتمل الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مشق کرائی جائے کہ ان کی ہجے یاد کر لیں اور اس طرح کے الفاظ کی شکلیں ان کے ذہن نشیں ہو جائیں۔

۴۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صوتی عمل گاہوں کا استعمال اور سمعی اور بصری امداد کا بھی سہارا لیا جائے اور تلفظ ، قواعد ، لفظ و معنی اور اسلوب کو ذہن میں رکھ کر ایسی مشقیں تیار کی جائیں جن کی مدد سے طالب علم زبان کی نزاکتوں ، لطافتوں کو اپنے تلفظ اور لب ولہجے کے ذریعے اپنا سکیں ۔

۵۔ ایسے طا لب علموں کو اردو سکھانے کے لیے اگر ہم سنوانے ،بُلوانے، پڑھوانے بعد ازاں لکھوانے کے اصول کو سامنے رکھیں تو زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

۶۔ اردو رسمِ خط کی خوبی اور آسانی سے لکھی جانے کی ادا کو زیادہ واضح طور پر بتانا چاہیئے کہ اگر آپ چند بنیادی علامتوں کو سیکھ لیں تو اردو کے تمام حروف کو سیکھ لینا کوئی مشکل نہیں ( علامت سے مراد آواز کو تحریر میں لانے کے لیے جن حروف کو استعمال کیا جاتا ہے ) مثلاً ایک بنیادی علامت ” ب “ ہے پہلے اسے لکھنے کی مشق کرائی جائے اور Connected Formمیں اس کی جو مختلف شکلیں ( ) ہیں ، ان کی مشق کرائی جائے پھر نقطے کے فرق سے ایک ہی Figure کے ذریعے پانچ مختلف آوازوں کو سکھائیں اس طرح ج۔ چ ۔ح۔ خ۔ چار مختلف آوازوں کے لیے ایک بنیادی علامت اور اس کی مختلف شکلیں سکھائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح اردو کے ہم شکل حروف کی درجہ بندی کر کے اسباق تیار کرائے جائیں تو سیکھنے کے عمل میں تیزی آسکتی ہے ۔

۷۔ ابتدائی سطح کے نصاب کی کتاب میں ایسے اسباق شامل کیے جائیں جن میں اردو مصوتوں کے صوتی نظام کو زیادہ وضاحت سے سمجھا جائے چونکہ اردو کا مصوتی نظام قدرے پیچیدہ ہے ۔اسی لیے معمولی لفظ کو بھی پڑھنے اور لکھنے میں نو آموز طلبہ کافی پریشان ہوتے ہیں مثلاً پ ، و ، ن سے ایک لفظ بنتا ہے جسے آپ کیا پڑھیں گے ذرا غور فرمائیں اِسے پُون ، پَون ، پوَن ،پون بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ہم اور آپ سیاق و سباق سے صحیح لفظ کا تعین توکر سکتے ہیں مگر کیا نو آموز سے بھی آپ توقع کر سکتے ہیں ؟ بہر کیف یہ ایسا مسئلہ بھی نہیں جسے حل نہ کیا جاسکے۔ مصوتوں کے لیے ہمارے رسمِ خط میں ی ، ے ،ا ،اور و چار حروف شامل ہیں اس کے لیے کچھ علامتیں ہیں جو زیر ،زبر ، پیش اور ہمزہ کی شکل میں ہیں اِ ن کی مدد سے حسبِ ذیل مصوتے بنتے ہیں ۔

ANS 05

آپ اب فعال سننے کے فوائد کو جانتے ہیں. اب یہ وقت آ رہا ہے کہ آپ کی سننے کی مہارت کو کس طرح قدم سے بہتر بنانے میں مدد ملے گی.

1. اسپیکر کا سامنا

اپنے گفتگو کے شریک کا سامنا کریں. اپنے فون، گھڑی، یا دوسرے لوگوں کو مت دیکھو. جو کوئی بات کر رہا ہے اسے دیکھو، یہاں تک کہ اگر وہ لیکچر یا سیمینار کے معاملے میں آپ کو نہیں دیکھ رہے ہیں.

آپ کی بات چیت کے ساتھی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے. آپ دوسری چیزوں کو وقت سے وقت دیکھ سکتے ہیں، لیکن اتنی کثرت سے یہ قابل ذکر ہوسکتا ہے. اگر آپ کو شخص کی آنکھوں میں عجیب لگ رہا ہے تو، اس کے بجائے ان کے کندھوں یا ان کے چہرہ کے دیگر حصوں کو دیکھو.

2. تصویر کیا بات چیت کر رہی ہے

بصریات اور ذہنی ماڈل قدرتی طور پر آپ کے دماغ میں تشکیل دیتے ہیں کیونکہ آپ معلومات کو سنتے ہیں. یہ معمول ہے، اور یہ ایک نشانی ہے کہ آپ کے حواس دوسرے شخص کو کیا کہہ رہے ہیں کا تجزیہ کرنے میں مشغول ہیں.

مطلوبہ الفاظ، تاریخوں، جملے، اور دیگر تفصیلات کو یاد رکھیں کہ آپ کو دوسری شخص کی کہانی کی صاف تصویر بنانے میں مدد ملے گی.

3. جج کو برقرار رکھنا

بعض اوقات، لوگ ان کو جواب دینے میں صرف مدد کرتے ہیں. یہ فعال سنجیدہ نہیں ہے.

آپ کی پوری توجہ سننے کا مطلب غیر جانبدار باقی ہے، اور اس بات پر کوئی رائے نہیں بناتے کہ اسپیکر آپ کو کیا بات کر رہا ہے جب تک کہ وہ بات چیت ختم کردیں.

وقت کے وقت کسی دوسرے شخص کے خیال میں منفی طور پر محسوس کرنا ناگزیر ہے، لیکن ان جذبات پر بہت لمبا نہیں رہتا. اندرونی طور پر غمگین نہ کرو اور کہو، “یقینا یہ کام نہیں کرے گا!” کیونکہ آپ کو ان منفی جذبات کو متاثر ہونے پر جلد ہی اسپیکر کے خیال کی توجہ اور تفہیم سمجھا جاتا ہے. یاد رکھیں، اچھے سننے والے نئے خیالات کے لئے کھلے ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے عقائد سے متفق ہیں.

4. رکاوٹ مت کرو

آپ سے بات کرنے والے شخص کو رکاوٹ نہ صرف آپ کو بدترین بنا دیتا ہے، یہ آپ سے متعلق معلومات کے جذب کو محدود کرتی ہے.

دوسرے شخص کی سزائیں ختم نہ کرو، یہاں تک کہ اگر آپ سوچیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں. سزا جرمانہ اکثر چیزوں کو غلط سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ان کے اپنے ٹرین کے بارے میں سوچتے ہیں- اسپیکر نہیں.

آپ کے سوالات اور بعد میں کے لئے انسداد مباحثہ محفوظ کریں، یہاں تک کہ اگر اسپیکر اپنے سوال کا صحیح موضوع پر بحث کررہے ہیں. کسی وضاحت کے وسط میں کسی کو مداخلت کر سکتا ہے کہ وہ ان کی سوچ کی تربیت سے محروم ہوجائے، اور اس کے علاوہ، امکان یہ ہے کہ آپ کے سوال یا جوابی مباحثے کو ان کی وضاحت میں بعد میں خطاب کیا جاسکتا ہے لہذا آپ کو ان کی پہلی جگہ میں مداخلت نہیں کی ضرورت ہے.

5. عکاس کریں اور واضح کریں

عکاسی اور واضح کرنے کے دو طریقے ہیں اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ آپ اور اسپیکر اسی صفحے پر ہیں.

عکاسی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے شخص نے اپنے الفاظ میں کیا کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے کہ آپ نے ان کے پیغام کو سمجھا، جبکہ ممکنہ غلط فہمیوں کو صاف کرنے کے سوالات کا مطالبہ کرنے کے ذریعہ ذرائع ابلاغ کی وضاحت. اسپیکرز نے سنا ہے کہ دونوں تخنیکاروں کو ہاتھ میں ہاتھ ملاتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ترجمہ میں کچھ بھی نہیں کھو گیا.

بیانات اور واضح کرنے کی مثالیں:

  • “تو میں نے سنا کہ آپ کو ….”
  • “میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے محسوس کیا …”
  • “ایک سیکنڈ بیک اپ، آپ کی طرف سے کیا مطلب ہے …؟”
  • “آپ کو کیا خیال ہوگا …؟”

6. خلاصہ

خلاصہ کی عکاسی کرنے کے لئے اسی طرح کی ہے، اس کے علاوہ جب آپ خلاصہ کرتے ہیں تو آپ یہ واضح کر رہے ہیں کہ آپ اپنے موجودہ موضوع سے متعلق ہیں. جب آپ خلاصہ کرتے ہیں، تو آپ صرف اسپیکر کے مجموعی موضوع کے اہم نکات کی وضاحت کرتے ہیں، گفتگو کے اس حصے میں آپ سے پہلے واضح کرنے کے لے جانے والے منٹ کی تفصیلات زیادہ اہم نہیں ہیں.

7. شریک یا جواب دیں

آپ شاید یہ سوچیں کہ یہ پانچ اور چھ مرحلے کی ایک اور تبدیلی ہے. یہ نہیں ہے. جی ہاں، آپ وہی ہیں جو دو پچھلے مرحلے میں بات کرتے ہیں، لیکن آپ نے صرف اس بات سے بات کی ہے کہ دوسرے شخص کے پیغام کو سمجھنے کی توثیق کریں.

اب کہ آپ نے ان کے پیغام کی بہتر تفہیم حاصل کی ہے، یہ آپ کے خیالات اور جذبات کو بات چیت میں متعارف کرانے کے لئے آپ کی باری ہے. آپ کو اپنے خیالات کا اشتراک کرنے کے لۓ امتیاز حاصل کرنے سے قبل آپ کو پہلے سے ہی تمام پچھلے مرحلے میں جانا ہوگا. اس طرح، اسپیکر ایسا نہیں محسوس کرے گا کہ آپ صرف اپنے ایجنڈا کو زور دے رہے ہیں کیونکہ آپ نے پہلے ہی ان کے احساسات اور خیالات کو درست کرنے کا وقت لیا.

مؤثر سننے کے لئے پرو تجاویز

  • ایماندار رہو، لیکن احترام کے ساتھ اپنی رائے پر زور دیں.
  • اگر آپ ڈرتے ہیں کہ آپ کی تجاویز دوسرے شخص کے اعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھے جائیں گے، تو آپ کے تجاویز کو پیش کریں، “اگر ایسا ہوتا ہے تو میں ہوں …”

AIOU Solved Assignment 1& 2 Code 1659 Spring 2020

q2 2

ANS 01

میرے خیال میں تدریسِ اردو کے مسائل پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ تدریسِ اردو کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ میں نے اعلیٰ ثانوی درجے کے طلبہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب ہمیں انجنیئر یا ڈاکٹر بننا ہے تو پھر اردو کی تدریس میں کیوں الجھایا جا رہا ہے۔ گویا ثانوی درجہ پاس کرنے کے بعد اردو کو بحیثیت مضمون بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔اس کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مگر سب سے بڑی وجہ شاید یہی ہے کہ انجینئرنگ یا ڈاکٹری کی پیشہ ورانہ تعلیم میں زبان مددگار ثابت نہیں ہوتی ۔ ان دونوں یا اس طرح کے دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں صرف انگریزی زبان ہی عمل دخل رکھتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں پیشہ ورانہ تعلیم کا نصاب ان کی اپنی زبانوں میں موجود ہوتا ہے۔ سالہا سال کی محنت سے ان ملکوں کے مختلف ادارے نصابی کتب کو دوسری زبانوں سے اپنی زبان میں منتقل کر کے اپنی زبان کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرواتے ہیں۔ ایسے ادارے ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں اور اس نوع کے کام میں مصروف بھی ہیں مگر عملاً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو زبان کو انگریزی کی جگہ لانے میں ان کا کردار اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا ۔یہ ادارے اپنی جگہ پر سفارشات بھی پیش کرتے ہیںمگر ملک کے مقتدر ادارے ان سفارشات کو کسی سطح پر نافذ کرنے کے قابل نہیں سمجھتے اور نہ ہی اردو کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مضبوط اور مستحکم ہونے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں بھی اردو کوثانوی حیثیت میں پسماندگی کا شکار دیکھتے ہیں۔ اعلیٰ ثانوی درجوں میں صرف ایسے طلبہ ہی اردو پڑھنا پسند کرتے ہیں جو اپنے گھریلو ماحول کی وجہ سے اس میں دلچسپی پیدا کر چکے ہوتے ہیںیا ثانوی اور ابتدائی درجوں میں بعض مخلص اور قومی درد رکھنے والے اساتذہ کی شخصیت اور کردار سے متاثر ہو کر اردو پڑھنے کا شوق پیدا کر چکے ہوتے ہیں باقی طلبہ محض اس لیے اردو پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے تمام مضمونوں میں مجموعی طور پر زیادہ نمبر حاصل کر کے پیشہ ورانہ کالجوں میں داخلے کے لیے میرٹ بنانا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہو ں کہ یہ صورت ِ حال ہماری قومی زبان کے ساتھ ایک طرح کے ظلم کے مترادف ہے۔ اور اس ظلم میں حکمران طبقوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اور ثانوی درجوں میں اردو کی تدریس لازمی قرار پاتی ہے ، مگر اس کے معلوم مقاصد صرف یہ چار ہیں۔
۱۔ اردو بولنا
۲۔ اردو پڑھنا
۳۔ اردو لکھنا
۴۔ اردو سمجھنا
ان چار مقاصد کے حصول کے لیے ایک بچہ جماعت اول سے جماعت دہم تک تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ گویا دس سال میں وہ اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اور پھر اسے کافی سمجھتے ہوئے اعلیٰ ثانوی درجوں میں وہ اردو کی تعلیم سے گریزاں نظر آتا ہے۔ اور انگریزی کو اپنی قومی زبان پر ترجیح اور فوقیت دینے پر مجبور ہوتا ہے، قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم اردو ہوتو پھر صورتِ حال یکسر بدل جائے طالبِ علم جوں جوں آگے پڑھے گا اردو میں اس کی دلچسپی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ ابتدائی درجوں سے زیادہ ثانوی درجوں میں اورثانوی سے زیادہ اعلیٰ درجوں میں طلبہ اردو کی تعلیم کو زیادہ ضروری سمجھنے لگیں گے۔ گویا اردو کی تدریس میں درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اردو کی تدریس میں دوسرا بڑا مسئلہ ہمارا نظامِ تعلیم ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ
میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
اس کی بنیاد ہی ہمارے قومی نظریات سے متصادم ہے اس کے حوالے سے حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اس نظامِ تعلیم نے طبقاتی کشمکش کو جنم دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کو وجود میں آئے
۶۵ برس ہو چکے ہیں مگر ہم اب تک اس خرابی کی صورت کو رفع نہیں کر سکے اور دین و مروت کے خلاف سازش کو بظاہر سمجھنے کے باوجود ختم نہیں کر پائے۔ طبقاتی نظام کے باعث اردو کی تدریس و تعلیم صرف ایک طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ طبقہ وسیع ہونے کے باوجود کمزور اور بے اختیار ہے جو اس نظامِ تعلیم کے شکنجے سے نکلنے کی خواہش رکھنے کے باوجود بے بس اور مجبور ہے۔ ہم نے اب تک جتنے بھی تجربات کیے ہیں اس نظام کے اندر رہتے ہوئے کیے ہیں۔ نصابِ تعلیم کئی مرتبہ تبدیل ہوا ہے مگر تبدیلیاں ایک خاص طرح کے خاص دائرے سے باہر نہیں ہوتیں اور ان تبدیلیوں کے لیے صرف اسی نصابِ تعلیم کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ایک کمزور اور بے اختیار طبقے کے لیے رائج ہے۔ ملک کا طاقتور طبقہ اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے غیر ملکی آقائوں کی زبان اور افکار پر مبنی نصابِ تعلیم رائج کر کے حکمرانہ ذہنیت پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس طرح ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو آزاد ہونے والے ملک کے اندر ہی غلامی اور آزادی کے واضح تصورات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کا تصور عالمِ اسلام کے مفکرِ اعظم نے پیش کیا تھا اور جس کے قیام کا محرک دو قومی نظریہ تھا۔ اگر ہم نظریہ پاکستان کے تشکیلی عناصر پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ نظریہ دو اجزاء کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے ایک ہمارا دینِ اسلام اور دوسرا ہماری زبان اردو۔۔۔۔ اگر دونوں میں سے ایک کو اس نظریے سے خارج کر دیا جائے تو اس کی عمارت منہدم ہو جائے گی۔ لہٰذا ہمیں ان دونوں عناصر کا تحفظ کرنا ہو گا۔
اور یہ تحفظ ایک نئے انداز کے نصابِ تعلیم کو مرتب کیے بغیر ممکن نہیں ایک ایسا نصابِ تعلیم جس میں اردو بولنے، پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کو نظریہ کی تفہیم و تحفظ کا ذریعہ بنایا گیا ہو۔ ابتدائی درجوں میں جب ایک بچہ الف ب سے آگے بڑھے گا تو اس کے دینی اور حب الوطنی کے تصورات بھی اس کی ذہنی استعداد کے ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گے۔ الف سے اللہ کہنے والے چار پانچ سال کے بچے کو یہ معلوم ہو جائے گاکہ اس کا کوئی خالق ہے جس کی پوری کائنات پر حکومت ہے۔ یہ پہلا سبق اگر اس کی سمجھ میں آ گیا تو اپنے دین سے دور نہیں جا سکے گا۔ چھوٹے بچے کو ابتداء ہی سے اردو کی اہمیت سے آشنا کیا جائے اور غیر محسوس طریقے سے یہ باور کرایا جائے کہ اردو سے محبت اصل میں وطن سے محبت ہے۔ نصابی کتب کی تیاری کے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ اسے کس سطح کے بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت عام تعلیمی اداروں میں اردو اعلیٰ ثانوی درجوں تک ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ اگر اس مضمون کی نصابی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا یہ کتب انتہا ئی عجلت میں بغیر سوچے سمجھے مرتب کی گئی ہیں۔ کسی ایک کتاب کے مکمل مطالعے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ساری کتاب پڑھانے کا مقصد کیا ہے۔ جماعت نہم کے لیے اردو کی ترتیب دی ہوئی کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ
۱۴/۱۳سال کے بچے کو ایک استاد کس طرح بتائے گا کہ غزل کیا ہوتی ہے۔ غزل کے لفظی معنی اور اس کے مضامین کی وسعت کوکیسے سمجھا سکے گا۔ جب کہ یہی بات ایم اے کی سطح پر پڑھانے والا ایک استاد بھی کما حقہ نہیں سمجھا پاتا۔ اس کتاب میں بہت سے مقامات ِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ کتاب کا آغاز سرورِ کائنات ﷺ کی سیرت کے حوالے سے ایک مضمون سے ہوتا ہے۔ اس مضمون سے کچھ فاصلے پر مرزا کے عادات و خصائل کے عنوان سے مولانا حالی کی تحریر ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غالب رمضان المبارک میں ایک روزہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ اس مقام پر نویں جماعت کا ایک معصوم طالب علم یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا مرزا غالب مسلمان نہیں تھے؟ استاد اس سوال کا جو جواب بھی دے بچہ اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی طرح کے تضادات اور الجھنیں اس وقت رائج تمام نصابی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اعلیٰ ثانوی درجوں کے لیے نیشنل بک فائونڈیشن کی تیار کی ہوئی کتاب سرمایہ ِ اردو کا حال یہ ہے کہ ہر صفحے پر املا کی اور کمپوزنگ کی غلطیاں ہیںاور کتاب میں ایسے اسباق شامل ہیں جن کی وجہ سے واقعی ایک سائنس کا طالب علم اردو کو اپنے لیے بارِ گراں سمجھنے لگتا ہے۔ ایک نجی ادارے کی شائع کردہ آٹھویں جماعت کے لیے اردو کی کتاب اگرچہ اس لحاظ سے قابل ِ تحسین کوشش ہے کہ وہ ایک نظریاتی ملک کی کتاب محسوس ہوتی ہے مگر اس کے مضامین ِ نظم و نثر آٹھویں جماعت کے طلبہ کی ذہنی استعداد سے کہیں زیادہ بوجھل ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں میر انیس کی رباعیات بھی شامل ہیں۔ ایسی نظمیں شامل ہیں جو ایک عام قسم کا شاعر بھی صحت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔ بہت زیادہ مشکل الفاظ اور تراکیب کی وجہ سے اس کتاب کے مضامین نظم و نثر بچوں کی ذہنی استعداد سے مطابقت نہیں رکھتے۔
میری ان گزارشات کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو بچہ سمجھا جائے اور اس کی ذہنی استعدادکا خیال رکھتے ہوئے اس کے لیے نصاب مرتب کیا جائے ورنہ وہ اسے بوجھ سمجھتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرے گا۔ نصابی کتابوں میں تحریک ِ پاکستان سے متعلق تو اکا دکا مضامین نظر آ جاتے ہیں مگر تاریخ ِ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ مثلاً
۱۹۷۱ء میں پاکستانی قوم ایک ایسے سانحے کا شکار ہوئی جو پوری دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عبرت ناک تھا۔ اس سانحے اور اس کے اسباب کا کسی درسی کتاب میں ذکر نہیں ملتا۔ اس طرح ہمارے آبائو اجداد کے درخشاں کارناموں کو بھی بہت کم جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح قومی زبان کی تدریس و تعلیم کو غیر ضروری اور مشکل بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ بلا شبہ ہماری درسی کتب طلبہ میں اردو کی تعلیم کا شوق پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔
اس طرح ہمارے اساتذہ کے رویوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی اس کارِ خیر میں شریک نظر آتے ہیں۔ طلبہ کے لیے اپنے استاد کی شخصیت ایک نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ وہ غیر معیاری اداروں کی شائع کی ہوئی غیر معیاری گائیڈز کا خود بھی مطالعہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی مشورہ دیتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے لیے بظاہر آسانی پیدا کر لیتے ہیں مگر ان کے اس عمل سے طلبہ میں اپنی قومی زبان سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ وہ ایک بے گار سمجھ کر محض امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے حسبِ ضرورت اردو پڑھتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا سبب تدریسِ اردو کے مقاصد کا غیر واضح ہونا اور قومی تقاضوں سے ان کی عدم ہم آہنگی ہے۔ میں آخر میں یہ گزارش اور سفارش کروں گا کہ نئی نسل کو اردو پڑھانے کے مقاصد کو قومی تقاضوں کے مطابق از سرِ نومتعین کیا جائے۔ اس سلسلے میںمحترم ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے اتفاق کرتے ہوئے تدریسِ اردو کے مقاصد کے چیدہ چیدہ نکات پیش کرتا ہوں۔
۱۔ طلبہ کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا سکھانا۔
۲۔ اردو کے ذریعے ان میں صحیح اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنا۔
۳۔ اظہارِ خیال کے ذریعے بچوں کی نفسیاتی تسکین اور طمانیت کا سامان فراہم کرنا۔
۴۔ اظہارِ خیال پر قابوپانے کے لیے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا۔
۵۔ غور و فکر اور مشاہدہ ومطالعہ کا شوق پیدا کرنا۔
۶۔ اردو زبان و ادب کی قدرو منزلت کا احساس پیدا کرنا۔
۷۔ طلبہ کے اندر چھپی ہوئی تخیلی، تخلیقی اور استحسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔
۸۔ پاکستانیت، آزادی اور سا لمیت کا تحفظ کرنا۔
۹۔ پاکستانیوں کو باہم تبادلہ خیال کے لیے مشترکہ ذریعہ مہیا کرنا۔
۱۰۔ مشترکہ ذریعہ اظہار کے توسط سے سیاسی و قومی یکجہتی پیدا کرنا۔
۱۱۔ عام معاشرتی زندگی میں سہولتیں پیدا کر کے کامیاب زندگی گزارنے کارستہ دکھانا۔
۱۲۔ ہم زبانی و ہم خیالی کے ذریعے پاکستانی قومی کردار کی تشکیل کرنا۔
۱۳۔ اساسی قدروں اور روایات کو محفوظ رکھنا اور فروغ دینا۔
۱۴۔دینی علوم کی ترقی و اشاعت میں آسانی پیدا کرنا۔
۱۵۔ موجودہ علمی ، ادبی تخلیقی و تحقیقی سرمائے کو محفوظ رکھنا اور اس میں روز بروز اضافہ کرنا۔
۱۶۔ زبان و خیال میں ہم آہنگی پیدا کر کے حصولِ تعلیم کو آسان بنانا۔
۱۷۔بلند پایہ مفکر، ادیب، شاعر، سائنسدان، ڈاکٹر ، انجینئیر، ریاضی دان اور ماہرین پیدا کرنا۔
۱۸۔ اپنی چیزوں کی اہمیت کا احساس دلا کر ذہنی غلامی سے نجات دلانا۔
۱۹۔ وطن ، قوم اور مذہب کی اہمیت کا احساس دلانا اور ان کی خاطر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا۔
۲۰۔ ملک و قوم کو روحانی اور مادی ترقی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مہذب اور شائستہ بنانا۔

ANS 02

سکتے ہیں۔
(1)فن تدریس کا سب سے پہلا اصول پڑھانے سے پہلے طلبہ کو پڑھنے کے لئے آمادہ(تیار) کرنا ہے۔سبق کی تدریس سے قبل بچوں میں سیکھنے کا جذبہ ،شوق و ذوق پیدا کیا جائے۔ شوق و ذوق کی بیداری اور محرکے کے بغیر یہ کام انجام دینا بہت ہی مشکل ہے۔بچوں میں محرکہ پیدا کرنے میں سابقہ معلومات کا اعادہ بے حد کارگرہو تا ہے۔سبق یا معلومات کی پیش کش کا آغاز حوصلہ افزا ء سوالات، دلچسپ سرگرمی یاسابقہ معلومات کے اعادہ سے انجام دیں۔یہ طرزعمل سابقہ معلومات اور نئی معلومات میں ایک تسلسل پیدا کرتے ہوئے سبق و معلومات کی تفہیم کو آسان بنا نے میں معاون ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس طریقہ کار کے ذریعے طلبا نئی معلومات کو بہت جلد قبول کر پاتے ہیں۔اساتذہ معلومات کی پیش کش میں بہت احتیاط سے کام لیں۔ نئے معلومات کی ترسیل سے قبل طلبہ کی سابقہ معلومات سے مکمل طور پر آگہی حاصل کریں۔پچھلی جماعتوں میں پیش کیئے گئے معلومات اور مفروضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئے معلومات پیش کریں۔ہربرٹ کی نظر میں سبق کو موثر بنانے کے لئے سبق کی موثر تیار ی ضروری ہے۔اگر استاد سبق پڑھنے کی موثرتیاری کرئے گا تبھی طلبہ میں سبق پڑھنے کا شوق اور محرکہ پیدا ہوگا۔ہربرٹ نے بچوں کی سابقہ معلومات سے سبق اور تدریس کو جوڑنے پر بہت زور دیا ہے۔وہ بچوں کی سابقہ معلومات پر سبق کی بنیاد رکھنے کا موئید نظر آتا ہے۔ میرا تدریسی تجربہ بھی اساتذہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تدریس کو مفید اور موثر بنانے کے لئے معلومات پیشکرنے کا آغاز طلبہ کی سابقہ معلومات سے کریں۔اساتذہ مناسب طریقے سے سابقہ معلومات کو پڑھائے جانے والے مواد سے مربوط کردیں تاکہ طلبہ کو نفس مضمون کی تفہیم میں کوئی دقت اور پریشانی نہ ہو۔
(2)معلومات کی پیش کش، کو موثر بنانے میں طلبہ کے نفسیاتی تقاضوں اور ذہنی استعداد کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔معلومات کی وضاحت اور تفہیم ،طلبہ کی علمی سطح کو مدنظر رکھ کر کی جائے تاکہ وہ بغیر کسی الجھن اور دقت کے ذہنی طور پر معلومات کو قبول کر سکیں۔ سوالات کے ذریعے طلبہ کی علمی سطح کی جانچ اور معیار کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ طلبہ کی ذہنی اور علمی صلاحیتوں سے معلومات کی پیش کشی کو ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے تاکہ طلبہ کی لیاقت اور قابلیت میں قابل قدر اضافہ ہوسکے۔مختصراً اس بارے میں اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ’’طلبہ کی ذہنی بالیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ معلومات پیش کرنے کے فرائض انجام دیں۔‘‘
(3)اگر بعض وجوہات کی بناء طلبہ کسی مضمون کی مبادی معلومات ،)بنیادی معلومات Basic knowlege) نہ سکھیں ہوں تب ان کو اس موضوع کی مزید)آگے کی ، اعلیadvance Knowledge (معلومات فراہم کرنا بے فیض اور وقت کا زیا ں ہوتا ہے۔بنیادی معلومات کے بغیر اعلی معلومات پیش کرنا بے معنی ہوتا ہے۔طلبہ میں اکتسابی دلچسپی اور تیزی اس وقت دیکھنے میں آتے ہے جب ان کو کسی بھی موضوع کی بنیادی معلومات کا علم ہوتا ہے یاپھر اعلی معلومات کی پیش کشی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کردئیے جاتے ہیں۔اگر طلبہ کی بنیادی معلومات اور ان کی علمی سطح کا ادراک کئیے بغیر تدریسی فرائض انجام دیئے جائیں گے تو یہ ناقص تدریس ہی کہلائی گی۔ اعلی معلومات کی پیش کشی کے دوران استاد کو اس بات کا علم ضروری ہے کہ پیش کردہ معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے ہم آہنگ اور ان کے معیار کے مطابقہیں۔ اگر طلبہ کسی مخصوص موضوع و مضمون کی مبادیا ت سے نا واقف ہوں تب استاد اعلی معلومات کی فراہمی سے قبل ان کو بنیادی معلومات فراہم کرے تاکہ طلبہ میں نئے معلومات کو حاصل کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہوسکے۔
(4)معلومات کی تفہیم و وضاحت کے دوران معروف)معلوم Known)سے غیر معروف)نامعلوم (Unknown کارشتہ جوڑیں۔معروف معلومات سے غیر معروف کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے اساتذہ طلبہ کو جذباتی اور ذہنی طور پر اکتساب کے لئے ابھارسکتے ہیں۔ معلومات کی پیش کش کے وقت اس بات کا خاص خیال ر ہے کہ پیش کی جانے والی معلومات طلبہ کی سابقہ معلومات سے مربوط ہوں۔اگر سابقہ معلومات (معروف معلومات) پیش کیئے جانے والے معلومات (نامعلوم معلومات)میں ربط ہوگا تب بچے نئی معلومات آسانی سے سیکھیں گے۔معلوم حقائق کے بل پر غیر معروف حقائق کو آسانی سے سیکھاجا سکتا ہے۔
(5)اساتذہ کو ا درسی کتاب( جو طلبہ کی ضروریات کی تکمیل کی متحمل نہ ہو ) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک معرو ف حقیقت ہے کہ طلبہ کو استاد پڑھتا ہے نا کہ درسی کتاب۔اساتذہ طلبہ کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر تعلیمی وسائل، ٹولس(تدریسی معاون اشیاء)اور دیگر درسی کتابوں کا بھر پور استعمال کریں تاکہ پریزنٹیشن(پیش کش ) کو موثر بنایا جاسکے۔ سبق کی تدریس ہو یا معلومات کی پیش کش استاد اور طالب علم دونوں کی شراکت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ بشب مویشو(Bishop Moisshou)کی کتاب ثانوی درجات کی تدریس سے ایک سطر بیان کرنا میں بے حد ضروری تصور کرتا ہوں تاکہ اساتذہ کو دروان درس و تدریس کوئی شک و شبہ نہ رہے۔”Stduent is the centre of the whole educational process, he is the life of the teachers effort.”اس قول کی روشنی میں اساتذہ درسی کتاب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے علم کی منتقلی کی جانب اپنی توجہ مرکوز کریں۔ استاد کتنا پڑھا چکاہے یہ بات میری نظر میں اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک بچوں نے کتنا سیکھا یہ بات بہت اہم ہے۔نصاب (syallabus)کی تکمیل کتاب کے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اوراق پلٹنے کا نام نہیں ہے بلکہ درسی کتاب میں پوشیدہ علوم کو طالب علم نے کتنا سیکھا یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔سبق کی تدریس میں اساتذہ صرف درسی کتب پر اکتفاء نہ کریں اور درسی کتب کی صحت اور معیار پر مکمل اعتبار نہ کریں ۔اپنے علم اور تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تدریسی فرائض انجام دیں۔
(6) منظم تدریس اور پر کیف اکتساب کو پروان چڑھانے کے لئے مناسب مثالوں اور وضاحتوں سے کام لیں۔تدریسی مرحلوں میں منطقی ترتیبکو ملحوظ رکھیں۔روزانہ کی اساس پر سبق کی منصوبہ بندی کریں۔منصوبہ بندی کے دوران استاد روزانہ کے اسباق کی منصوبہ بندی کو پورے نصاب سے مربوط وہم آہنگ رکھے تاکہ نصاب کے مقاصد کو باآسانی حاصل کیاجاسکے۔ماہر تعلیم مائیکل کے مطابقکسی مخصوص دن،ایک خاص مقررہ وقت پر سلسلہ وار اکتسابی تجربات کو سبقکہتے ہیں۔”A lesson may be defined as a series of learning experiences which occur in a single block of time on a particular day.”موثر پیش کش کے لئے اساتذہ کا تعلیمی مواد ، تدریسی معاون اشیاء،تدریسی سرگرمیوں اور دیگر تعلیمی وسائل سے باخبر ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک باخبر استاد ہی ایک باشعور معاشرہ تعمیرکر سکتا ہے۔
(7)اساتذہ تفہیم ،تشریح اوروضاحتوں کے بیچ طلبہ کو مختصر وقفہ فراہم کریں تاکہ وہ غور و فکر کر سکیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، اپنے شکوک و شہبات کے ازالہ کے لئے سوالات کر سکیں۔ تفہیم و تشریح کے دوران مختصر وقفہ طلبہ کے لئے سود مند ہوتا ہے۔یہ مختصر سا وقفہجہاں طلبہ کو افہام و تفہیم کے عمل میں ایک فعال کردار اداکرنیپر مائل کرتا ہے وہیں اساتذہ کو بھی آرام و استراحت کا موقعفراہم کر دیتا ہے۔
(8)وضاحت ،تفہیم و تشریح کے لئے استعمال کردہ زبان طلبہ کی معیار کے مطابق ہونی چاہیئے اور اس کے برموقع و برمحل استعمال کے ہنر سے استاد کی آشنائی ضروری ہوتی ہے۔ اساتذہ اہم نکات کی تفہیم کے لئے الفاظ و جملوں پر زور دینے اور مخصوص اشاروں (gestures)کے استعمال سے ہرگز گریز نہ کریں۔
(9)معلومات کی پیش کش کے دوران طلبہ کی جانب سے کیئے جانے والے سوالات کا احیتاط سے سامنا کریں۔طلبہ کے سوالا ت سے بدمزہ اور غصہ ہونے کے بجائے خوش گواری سے پیش آئیں اور سوالات کو تدریس میں ایک موثر وسیلہ کے طور پر استعمال کریں۔
(10)اہم نکات کی مناسب اور وضعی تکرار اہم معلومات کے تعین میں مددگار ہوتی ہے۔ جہاں بھی ضرورت ہو وضاحتی اور تفہیمی خلاصہ پیش کریں۔
(11)تفہیم و وضاحت کے لئے جہاں کہیں ضرورت محسوس ہو تدریسی معاون اشیاء کا استعمال کریں۔تدریسی معاون اشیاء (ٹیچنگ ایڈس) کا استعمال طلبہ میں اکتسابی دلچسپی کو پروان چڑھانے کے ساتھ مشکل تصورات کو عام فہم اور آسان بنانا کر پیش کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
(12)سبق کے آخر میں طلبہ کی جانچ اور اعادہ سے ان کے اکتساب کی سطح کا علم ہوتاہے ۔پریز نٹیشن (پیش کش ) کے اختتام پر جانچ اور اعادہ سے اساتذہ کی تدریسی تاثیر اور جامعیت کا بھی اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔اسی لئے اساتذہ اپنے ہر پریزنٹیشن کے اختتام پر جانچ اور اعادہ (Evaluation @ Recapitulation)سے ضرور کام لیں۔
(13)سبق کا آغاز جس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح سبق کا اختتام بھی اہم ہوتا ہے۔ بہتر اختتامیہ طلبہ کے ذہنوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقش بنادیتا ہے۔سبق کے اختتام پر اساتذہ تھوڑا تجسس باقی رکھیں تاکہ طلبہ میں خود اکتسابی ،تحقیق اور جستجو کی کیفیت پیدا ہو سکے۔اختتام پر کوئی ایسا پہلو نا تمام چھوڑ دیں جس سے طلبہ خود کو تشنہ کام محسوس کر نے لگے ۔یہی تشنگی طلبہ کو تحقیق اور جستجو کی جانب مائلرکھے گی۔ طلبہ میں خوداعتمادی کی کیفیت پروان چڑھے گی ،وہ آزاد اور خود کار اکتساب کی جانب گامزن ہوجائیں گے

ANS 03

ٹیچنگ ایڈس کے فوائد؛۔ تدریسی معاون اشیاء معلومات اور علم کی منتقلی میں ایجوکیٹرز (اساتذہ) کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں اس کے علاوہ کمرۂ جماعت کو جاذبیت عطاکرنے کے علاوہ متنوع ہیت اور شکل عطا کرنے میں بھی یہ کلیدی کر دار انجام دیتے ہیں۔ذیل میں تدریسی معاون اشیاء کے استعمال کے فوائد کو تفصیلی طور پر پیش کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے تاکہ اساتذہ طلبہ میں اکتساب کو پروان چڑھانے کے ساتھ درس و تدریس کو اکتاہٹ اور بیزارگی کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔
(1)تدریسی معاون اشیاء طلبہ کے حصول علم میں معاون و مددگار ہونے کے ساتھ حاصل شدہ علم کو طویل عرصے تک ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ اکتسابی عمل تدریسی معاون اشیاء کے استعمال سے بامعنی اطمینان بخش بن جا تا ہے۔
(2)تدریسی معاون اشیاء کثیر حسی دلچسپی کو مہمیز کرتے ہوئے طلبہ کو اکتساب کی طرف مائل کرنے میں ایک محرکہ کا کام انجام دیتے ہیں۔تدریسی معاون اشیاء طلبہ کو اکتساب کی جانب کامیابی سے ابھارتے ہوئے اکتساب کو کارآمدو سود مند بنا دیتے ہیں۔
(3)تدریسی معاون اشیاء کمرۂ جماعت کی تدریسی کو ایک سائنسی انداز میں پیش کرنے میں مدد گار ثابت ہوئے ہیں اور ان کی مدد سے استاد آسانی اور ترتیب سے معلومات کی ترسیل و منتقلی کو انجام دے سکتا ہے۔
(4)تدریسی معاون اشیاء طلبہ کی توجہ مرکوز کرنے میں ایک کارآمد آلہ کا کام انجام دیتے ہیں۔تدریسی معاون اشیاء کی وجہ سے بچوں میں عدم توجہ کی کیفیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ان تعلیمی اشیا ء کی وجہ سے بچوں میں ارتکاز باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بچوں میں سیکھنے کا عمل پروان چڑھتا ہے بلکہ کمرۂ جماعت کا نظم و ضبط بھی بہتر رہتا ہے۔
(5) تدریسی معاون اشیاء کے استعمال سے طلبہ کے فہم کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور گفتگو میں سلاست و وضاحت پیدا ہوجاتی ہے۔
(6)تدریسی معاون اشیاء کا استعمال تخیل کو مہمیز کرنے کے علاوہ قوت فکر و استدلال کو فرو غ دینے میں معاون ہوتا ہے۔
(7)موثرتدریسی معاون اشیاء کی وجہ سے پیچیدہ اور گنجلگ موضوعات آسانی سے طلبہ کو سمجھائے جاسکتے ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ کی توانائی اور وقت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔
(8)معاون تدریسی اشیاء اکستاب کے نتائج کا جائزہ لینے کے علاوہ طلبہ میں نفس مضمون کی کاملیت کا اندازہ قائم کرنے میں بھی مثالی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔
(9)تدریسی معاون اشیاء نے تفاعلی -تاملی(interactive)اکستاب کے کئی دریچے کیئے ہیں۔اس کے علاوہ انفرادی اکتساب کے بھی مواقع طلبہ کو حاصل ہوتے ہیں۔
تدریسی معاون اشیاء کے موثر استعمال سے اساتذہ کو واقف ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ و ہ تدریسی معاون اشیاء سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے قابل بن سکیں اور درس و تدریس کو بامقصد اور کارآمد و سود مند بنا سکیں۔درس و تدریس کے وہ وسائل جو اکتسابی عمل (Learning programmes)میں قابل قدر کردار کے حامل ہوتے ہیں جن میں چند اہم قابل ذکر وسائل
(1)تختہ سیاہ (بلیگ بورڈBlack Board) گلاس بورڈ
(2)چارٹس ، پوسٹرس اور فلینل بورڈ(Flannel Board)
(3)نمونے (ماڈلسModels) اور Specimens
(4)اور ہیڈ پروجیکٹرس اور ٹرانسپرینسیز(Over Head Projector and transparencies)
(5)پروجیکٹر اور سلائیڈز(Projector and Slides)
(6)کمپیوٹر اور اس سے متعلق اشیاء (Computer and related accessories)
مذکورہ وسائل کو ان کی نوعیت اور تنوع کے اعتبار سے تین درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔(1)بصری امدادی اشیاء Visual Aids (2)سمعی امدادی اشیاء Audio Aids (3)سمعی و بصری امدادی اشیاء Audio Visual Aids
(1)بصری تدریسی معاون اشیاء (Vissual Teaching Aids)وہ تدریسی معاون اشیاء جن کا تعلق بصارت یعنی نظر سے ہوتا ہے انہیں بصری امدادی اشیاء کہا جاتا ہے۔بصری تدریسی معاون اشیاء کے ذریعہ طلبہ بذات خود ان کا جائزہ لے کر تشریح ،تعبیر و وضاحت کا کام انجام دیتے ہیں۔بصری امدادی اشیاء کے استعمال سے جہاں قوت مشاہدہ کو فروغ حاصل ہوتا ہے وہیں عملی تجربات و نظری معلومات کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔بصری تدریسی معاون اشیاء میں تختہ سیاہ،گراف،چارٹس ،تصاویر،ماڈلس ،نقشے، خاکے ، اور فلم اسٹرپس ،فلینل بورڈ(بلیٹن بورڈ)ایپی ڈائسکوپ(Epidiascope)،اور ہیڈ پروجیکٹر، فلش کارڈز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
(2)سمعی تدریسی معاون اشیاء (Audio Aids)وہ تدریسی معاون اشیاء جن کا تعلق قوت سماعت سے ہو اسے سمعی تدریسی معاون اشیاء کہا جاتا ہے۔ان امدادی وسائل میں طلبہ آواز کے ذریعے سبق کے نکات سمجھتے ہیں۔سمعی تدریسی معاون اشیاء میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جن کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے یہ اشیاء تعداد میں بہت قلیل واقع ہوئی ہیں جن میں قابل ذکر ٹیپ ریکارڈ،ریڈیو،گرام فون وغیرہ ۔
(3)بصری و سمعی امدادی اشیاءAudio Visual Aids) (وہ تدریسی معاون اشیا ء ہوتے ہیں جو جن کا تعلق سماعت و بصارت سے ہوتا ہے ۔ یہ امدادی وسائل حرکی تصاویر (motion pictures)کو پیش کرنے کے ساتھ ان نظاروں کی وضاحت و تفہیم کے لئے پس منظر میں(Backgroud Sound) آوازیں بھی فراہم کر تی ہیں۔آج کے ترقی یافتہ دور میں ان اشیاء کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔یہ امدادیں اسباق کو طلبہ کے نظروں کے سامنے پیش کردیتے ہیں اور حقائق از خود طلبہ کے سامنے آجاتے ہیں ۔کوئی چیز صیغہ راز میں نہیں رہ پاتی۔آج کل کے ڈیجیٹل کلاس رومس اور اسمارٹ کلاس رومس اسی نظریہ کے تحت قائم کیئے گئے ہیں۔ یہ اکتساب کو فروغ دینے کے علاوہ تعلیم سے دلچسپی پیدا کرنے میں کلیدی کردار انجام دیتے ہیں۔بصری و سمعی تدریسی معاون اشیاء میں پروجیکٹرز، ٹیلی ویژن، ڈرامہ،کٹ پتلیوں کا تماشہ،کمپیوٹرز،لیاپ ٹاپس، ٹابلیٹس، اسمارٹ فونش ،انڈرائیڈ فونس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔سمعی و بصری تدریسی معاون اشیاء پائیدار اکتساب کی راہیں ہموار کرنے کے ساتھ طلبہ میں تعلیمی جوش و خروش اور دلچسپی پیدا کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوئی ہیں۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مذکور ہ تدریسی معاون اشیاء کے انتخاب اور استعمال سے قبل منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے تاکہ تدریسی معاون اشیاء سے بہتر طور پر استفادہ کیا جاسکے اور تدریسی مقاصد کے حصول کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔تدریسی معاون اشیاء کو تعلیمی سرگرمیوں سے مربوط کرنے سے پیشتر درجہ ذیل امور پر توجہ مرکوز کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
(1)تدریسی معاون اشیاء کے استعمال سے سبق کے کون سے مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟
(2)دوران تدریس تدریسی معاون اشیاء کو موثر طریقے سے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے؟
(3)تدریسی معاون اشیاء سے استفادے کے لئے طلبہ کاکن بنیادی معلومات سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے؟
(4)تدریسی معاون اشیاء کواستعمال کرنے پر جماعت کے کتنے طلبہ براہ راست اس سرگرمی میں ملوث ہوں گے؟
(5)تیار شدہ بازاری (رئیڈی میڈ) تدریسی معاون اشیاء طلبہ کی اکتسابی سطح کے مطابق ہیں یا نہیں؟
(6)الیکٹرانک و ٹکنا لوجی کے آلات کے طریقہ کارکردگی یا کام کرنے کے طریقہ کار سے واقفیت

ANS 04

بچہ استاد کے لیے بذاتِ خود ایک ایسا سبق ہے جس کی تیاری اسے ہر لحظہ درکار ہے چہ جائیکہ مقرر کردہ نصاب کے مطابق روزانہ کی تدریس کے لیے سبق کی منصوبہ بندی کرنا۔ تعلیم کی مثلث استاد، طالب علم اور نصاب پر مشتمل ہے۔ ہر جسم اپنے مرکز کی بِناء پر متوازن رہتا ہے۔ تعلیمی عمل میں بچے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے گرد تدریسی عمل کا پہیہ گھومتا ہے۔

ایسی تدریس جو طالب علم کے رجحانات اور میلانات کے تقاضوں کو پورا کرسکے، وہی معاشرتی ارتقا میں بھی ممد ہوگی۔ جیسا کہ جان ڈیوی کے خیال میں ’’تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے اور معاشرے کے ارتقا میں معاون ہے اس لیے تعلیم کو معاشرے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور تعلیم میں معاشرتی رجحانات کی شمولیت ازحد ضروری ہے۔‘‘

تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرتی زندگی بچے کے لیے وہ میدان ہے جہاں اسے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرکے معاشرتی اکائیوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اور معاشرے کی ضروریات پوری کرنی ہوتی ہیں۔ لہٰذا، وہی تعلیم مفید ہے جو بچے کی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرے۔

سرسید احمد خان کے خیال کے مطابق ’’کسی شخص کو تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی فطری صلاحیتوں کا تجزیہ کرکے اس کو صحیح راستہ پر ڈالا جائے۔ تعلیم دینا درحقیقت کسی چیز کا باہر سے ڈالنا نہیں بلکہ بچے میں کائناتِ فطرت کی سمجھ کے ساتھ ساتھ بصارت بھی پیدا کرنا اور اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ زندگی میں اپنی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکے۔‘‘ لہٰذا، تعلیم کے یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے تدریس میں سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ استاد کے لیے سبق کا ازبر ہونا ’سبق کی تیاری‘ تو کہا جاسکتا ہے لیکن ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا جس کے ذریعے طلباء کو سبق واضح طور پر سمجھ میں ہی نہ آئے بلکہ ذہن نشین بھی ہوجائے، ساتھ ساتھ متعلقہ عنوان کی استعداد بھی پیدا ہو، سبق کی منصوبہ بندی کہلائے گا۔
بارآور تعلیم کے لیے سبق کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ سبق کی منصوبہ بندی کی کیا اہمیت اور فوائد ہیں، ذیل میں اس کا اجمالی خاکہ پیش کیاجاتا ہے۔

1۔ مقصد کا تعیّن:
سبق کی منصوبہ بندی سے سبق کا مقصد واضح ہوجاتا ہے اور استاد گم گشتہ شاہ راہوں پر گھومنے کی بجائے اپنے ٹریک ’سبق‘ پر رہ کر متعین مقصد حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ تدریس کے مقاصد حاصل کرلینا ہی کامیاب تعلیم کی دلیل ہے۔

2۔ خود اعتمادی:
سبق کی منصوبہ بندی سے استاد دورانِ تدریس آمدہ تدریسی مشکلات کا اندازہ لگاکر ان کا حل تلاش کرلیتا ہے۔ جس سے وہ طلباء کے اذہان میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات خوداعتمادی سے دے سکتا ہے اور سبق سے متعلقہ ابہام کا بھی ازالہ کرسکتا ہے۔ سبق سے متعلقہ امور پر غوروفکر کرتا ہے اور غیرمتعلقہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے۔

3۔ تدریسی معاونت کی تیاری:
انسان مشاہدے سے بہتر طور پر سیکھتا ہے۔ قرآن حکیم نے بھی اسی لیے کائنات میں غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ سمعی وبصری معاونت کا استعمال بچوں کے لیے سیکھنے میں کافی مددگار ہوتا ہے۔ سبق کی منصوبہ بندی کا یہ فائدہ ہے کہ پیش کیے جانے والے سبق کی سمعی وبصری معاونت کا بندوبست کرلیا جاتا ہے۔

4۔ اسباق میں ربط:
سبق کی منصوبہ بندی سے تدریسی عمل میں تسلسل برقرار رہتا ہے۔ کلاس ٹیچر کی غیرموجودگی میں متبادل استاد آسانی سے سبق پڑھا سکتا ہے۔ اس طرح طلباء کے وقت کا ضیاع بھی نہیں ہوتا۔

5۔ تخیل اور اختراع:
دیے گئے نصاب کو ہو بہو رٹا دینے سے تعلیم کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا، ضروری ہے کہ نصاب کی حدود میں رہ کر بچے میں متعلقہ عنوان کے بارے میں استعداد پیدا کی جائے۔ استاد اپنی سوچ کا گھوڑا دوڑا کر نئی سرگرمیاں متعارف کروا سکتا ہے تاکہ بچے سبق کو جلدی سمجھ سکیں۔ وہ جائزے کے لیے ایسے سوالات بھی تیار کرسکتا ہے جس سے ان کے فہم کا اِدراک ہو۔ بچوں کو سبق کا مقصد سمجھانے کے لیے اس کے اہم نکات کی نشان دہی بھی کرسکتا ہے

ANS 05

یونیورسٹیوں اور دیگر پروفیشنل اداروں میں زیرِ تعلیم لاکھوں طلبہ و طالبات سال میں کئی بار امتحانی مراحل سے گزرتے ہیں۔ ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی امتحانی نتیجے کے بعد طلبہ وطالبات امتحانی نظام کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔

انتظامیہ کے نزدیک یہ مظاہرین طلبا کمزور یا نالائق امیدوار ہوتے ہیں جو فیل ہونے پر خوامخواہ واویلا کر رہے ہیں، جبکہ طلبہ وطالبات کا مؤقف ہوتا ہے کہ پرچوں کی مارکنگ درست نہیں ہوئی، پرچے کے سوالات کورس سے باہر کے تھے، امتحان کا وقت کم تھا، یا بدانتظامی کی وجہ سے ان کو فیل کردیا گیا ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اکثر انصاف کے لیے عدالتوں کا رخ بھی کرتے ہیں۔ چوں کہ یونیورسٹیوں میں شکایت کے ازالے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں اور نہ ہی پاکستان میں تعلیمی محتسب کا ادارہ قائم ہے، سو انصاف کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاتا ہے۔

ہمارا عدالتی نظام جو کہ پہلے سے ہی مقدموں کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اس میں ایک اور مقدمے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ آج ہم اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کے ممکنہ حل پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں موجودہ امتحانی نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ امتحانی نظام

بد قسمتی سے موجودہ جدید دور میں بھی پاکستان کے اکثر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قدیم امتحانی نظام نافذ العمل ہے جو کہ تحریری طرز کا ہوتا ہے۔ امیدواروں کو تحریری صورت میں سوالات کے طویل جوابات دینے ہوتے ہیں۔ ابھی کچھ اداروں میں معروضی طرز پر کثیر الانتخابی سوالات (ایم سی کیوز) کو بھی شامل کیا گیا جو کہ عموماً کُل امتحانی پرچے کا 15 سے 20 فیصد ہوتا ہے۔

اس پرانے نظام کے تحت یونیورسٹیاں ‘بڑی محنت’ سے امتحانی پرچے تیار کرتی ہیں۔ پرچوں کی تیاری، ترسیل اور امتحان کا انعقاد سخت نگرانی میں ہوتا ہے۔ اگر تو یہ پرچے یونیورسٹی کے کسی ذیلی کیمپس یا کالج میں ہو رہے ہیں تو ضلعی انتظامیہ بھی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 144 کا نفاذ کرتی ہے اور پولیس بھی امتحانی سینٹر کے باہر ‘سخت نگرانی’ کرتی ہے۔

امتحانی سینٹر میں امیدوار پرچہ حل کرتا ہے، جس کے بعد وہ پرچے دوبارہ ‘سخت نگرانی’ میں یونیورسٹی پہنچتے ہیں، جہاں اس شناخت کو تبدیل کر دیا جاتا ہے (یعنی رول نمبر والا صفحہ الگ کر کے نیا سیریل نمبر لگایا جاتا ہے)۔ جوابی کاپی کے خالی صفحات پر ’خالی ہے‘ کی مہر لگائی جاتی ہے۔ اس کے بعد ممتحن کو مارکنگ کے لیے جوابی کاپیاں ارسال کر دی جاتی ہیں تاکہ بدعنوانی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

ممتحن حضرات کچھ طے شدہ اصولوں کے مطابق ان پرچوں کی مارکنگ کرتے ہیں۔ چوں کہ انہیں ادائیگی فی کاپی کے حساب سے کی جاتی ہے۔ اس لیے جو ممتحن زیادہ پرچے چیک کرتا ہے، اسے زیادہ معاوضہ ملتا ہے۔

امتحانی پرچے چیک ہو کر دوبارہ یونیورسٹی پہنچتے ہیں، جہاں یونیورسٹی کا عملہ ان پر جائزہ لے کر ایوارڈ لسٹ اور دیگر فہرستیں تیار کرتا ہے۔

فائنل رزلٹ کو ایک کتاب (گزٹ) کی صورت میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ اکثر یونیورسٹیوں میں یہ کاغذ پر شائع ہوتا ہے۔ لیکن کچھ یونیورسٹیاں آن لائن ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیتی ہیں۔

موجودہ امتحانی نظام میں خامیاں

اس نظام میں بہت سی خامیاں ہیں۔ سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں وقت بہت زیادہ لگتا ہے۔ خاص طور پر جب امیدواروں کی تعداد زیادہ ہو تو رزلٹ مکمل کرنے میں کئی ماہ درکار ہوتے ہیں۔ مثلاً بی اے، بی کام، ایل ایل بی اور ایم اے کے امتحانون کے نتائج عموماً چار سے چھے ماہ کے بعد تیار ہوتے ہیں۔ سخت نگرانی کے باوجود بھی یہ امتحانی نظام بدعنوانیوں سے غیر محفوظ ہے۔

غلطیوں کے امکانات موجود رہتے ہیں

چوں کہ اس امتحانی نظام میں تمام تر کام انسان کرتے ہیں اس لیے اس میں انسانی غلطی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے نظامِ امتحان پر اخراجات بھی کافی زیادہ ہوتے ہیں، جن میں سال در سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی یہ اخراجات امیداروں سے فیس کی صورت میں، اور حکومت سے گرانٹ کی صورت میں وصول کرتی ہے اور حکومت ٹیکس کے ذریعے عوام سے حاصل کرتی ہے یعنی عوام ہی اس ناقص امتحانی نظام کے مالی اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

غیر منصفانہ نظام

سارا سال پڑھنے کے بجائے آخری چند ہفتوں میں چند اہم سوالات تیار کر کے اچھے نمبرز حاصل کرنا آسان ہے۔ اس نظام میں نا انصافی اور بد عنوانی کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ چوں کہ یہ ایک ناقص طریقہ کار ہے اس لیے اس میں قابل طُلبا فیل اور کم محنت کرنے والے اچھے نمبر لے سکتے ہیں۔

مثلاً ایم اے کی سطح پر اکثر یونیورسٹیوں میں سو نمبر کے پرچے میں چار سوال حل کرنے ہوتے ہیں۔ اب جن امیداروں نے دو سو موضوعات کی تیاری کی اور جنہوں نے گیس پییرز سے دس سوال تیار کیے، ناقص طریقہ کار کی وجہ سے دونوں کے نمبرز برابر یا گیس پییرز والے کے نمبر زیادہ آ جاتے ہیں، جس سے گیس پییرز، گائیڈ، حل شدہ سابقہ پرچہ جات کا بزنس دن بہ دن ترقی کر رہا ہے۔

ممتحن کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا

قدیمی طرزامتحانی نظام میں امیدواروں کے مستقبل کا کلی اختیار ممتحن حضرات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ ممتحن کی مرضی پر ہے کہ وہ کسی 25 نمبر والے سوال کے 17 نمبر دیں یا 7، کوئی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

اس امتحانی نظام کو چلانے والوں کے بقول “ممتحن کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا” والا اصول صحیح ہے۔ دوسری صورت میں (ری مارکنگ/ری ایویلیوایشن کی اجازت سے) ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

پرچہ جات کی ری چیکنگ میں انصاف مل سکتا ہے؟

اگر قابل امیداروں کے ساتھ ناانصافی ہو جائے تو انہیں انصاف ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں کیوں کہ اول ری چیکنگ ہوتی ہی نہیں، بلکہ ری کاؤنٹنگ ہوتی ہے، اور دوسرا یہ کہ یونیورسٹیوں نے فی پیپر ری کاؤنٹنگ کی فیس بہت زیادہ مقرر کر رکھی ہے، تاکہ رش کم ہو۔

اس میں صرف یہ چیک کیا جاتا ہے کہ کسی سوال کے نمبر شمار ہونے سے تو نہیں رہ گئے اور نمبروں کا ٹوٹل درست ہے۔ یعنی اگر ممتحن صاحب نے کسی 25 نمبر والے سوال کے 6 نمبر دیے ہیں تو اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرنے کے علاوہ امیداور کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

اس سارے مسئلے کا حل کیا ہے؟

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ امتحانی نظام کو باقی ترقی یافتہ ملکوں کی طرح جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور جو کام دنیا بھر کی یونیورسٹیاں آن لائن امتحانی نظام کی صورت میں ایک طویل عرصے سے کر رہی ہیں، وہی کام ہمیں بھی اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں رائج کرنا ہوگا۔ جس میں امیدوار کمپیوٹر پر پپیرز دیتا ہے اور کمپیوٹر آن لائن سرور سے منسلک ہوتا ہے جو تمام طلبا و طالبات کے سامنے مختلف سوالات پیش کرتا ہے۔

یہ جدید نظام انتہائی مؤثر ہے۔ اس میں سوالات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ جس سے چار سوالوں/یعنی چار موضوعات کے بجائے 50 سے 60 سوالوں یا موضوعات کے ذریعے امیدواروں کی قابلیت کا اندازہ بہتر طریقے سے لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔

مؤثر سوفٹ ویئر نظام ہونے کی وجہ سے اس میں غلطیوں کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں، غلطیوں کی فوری نشان دہی ہو جاتی ہے اور ان کا فوری ازالہ بھی ممکن ہوتا ہے۔

اس جدید نظام کے فوائد نیچے درج ہیں۔

کم اخراجات

اس نظام پر لاگت کم آتی ہے۔ اگرچہ شروع میں کچھ زیادہ اخراجات ہوتے ہیں لیکن ایک بار کی سرمایہ کاری ہے کیوں کہ ایک بار نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کے بعد آئندہ برسوں میں قدیم نظام کے مقابلے جدید نظام میں اخراجات انتہائی کم ہوتے ہیں۔

اس نظام کا انتظام کرنا کوئی مشکل کام نہیں، تیار شدہ اور اپنی مرضی کے آن لائن امتحانی سسٹمز اور اپنے خاص سوالات کا ڈیٹا بیس تیار کرنے والے ماہرین پاکستان میں باآسانی اور نہایت کم فیس پر دستیاب ہیں۔

ایک اوسط درجے کا سوفٹ ویئر پروگرامر بھی اس امتحانی نظام کو تیار کرنے صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بہت سے اہم جزو (آٹومیشن سسٹم ماڈیول) فری میں دستیاب ہیں۔

استعمال اور نگرانی میں سہولت

چوں کہ اس میں اکثر کام سوفٹ ویئر کو انجام دینا ہوتا ہے، اس لیے امتحانی سینٹر کی نگرانی، پرچہ جات کی تیاری، پرنٹنگ، ترسیل، ڈاک کے اخراجات، جوابی کاپیوں کی تیاری، مارکنگ وغیرہ میں بہت کم افرادی قوت استعمال ہوتی ہے۔

شفافیت

مروجہ امتحانی نظام میں امیداروں کو حل شدہ جوابی کاپیاں واپس نہیں کی جاتیں، اس وجہ سے فیل یا کم نمبرز حاصل کرنے والے طلبا کو اپنی اصل غلطیوں کا درست طور پر علم ہی نہیں ہو پاتا۔

وہ صرف فرض کرتا ہے کہ اس نے یہ غلطی کی ہوگی، جبکہ جدید آن لائن امتحانی نظام میں امیدوار کو حل شدہ جوابی کاپی فوری طور پر پرنٹ کر کے یا ای میل کے ذریعے فراہم کی جاسکتی ہے۔

اس طرح اعلیٰ تعلیم ادھوی چھوڑ جانے والوں کی تعداد میں اچھی خاصی کمی ہو سکتی ہے۔

غلطیوں اور بدعنوانی سے پاک

روایتی طریقہ کار میں امتحانی سینٹر میں نقل اور بدعنوانی کو روکنا ایک مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے۔ جبکہ جدید نظام میں ہر امیدوار کو دوسرے کے مقابلے میں مختلف پرچہ ملتا ہے۔

سوفٹ ویئر کی مدد سے کسی کمپیوٹر گیم کی طرح آسان اور مشکل سوال پوچھ کر ان کی قابلیت کا بہتر طور پر اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح ممتحن صاحب کی محنت نہ صرف کم ہو جاتی ہے بلکہ ان کے لامحدود اختیارات کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔

جدید امتحانی نظام کے لیے اضافی تعلیمی بجٹ درکار نہیں

عموماً جب بھی کسی ٹی وی پروگرام میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان سے پاکستان کی یونیورسٹیوں کے کم درجے پر ہونے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ اس کا ذمہ دار حکومت اور خاص طور پر تعلیم پر مختص کم بجٹ کو قرار دیتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ تعلیمی بجٹ میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ لیکن امتحانی نظام کی بہتری سمیت دیگر انتظامی اصلاحات کر کے بغیر اضافی بجٹ کے نظامِ تعلیم بہتر کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی حکام جلد از جلد امتحانی نظام کی اصلاح کی طرف توجہ دیں اور جزوی یا کُلی طور پر آن لائن امتحانی نظام کو اختیار کریں۔

ابتدائی طور پر یونیورسٹیوں کو ان شعبہ جات، جہاں امیداروں کی تعداد کم ہے، میں اس جدید امتحانی نظام کا تجربہ کرنا چاہیے اور پھر مرحلہ وار پورے امتحانی نظام کو اس جدید آن لائن امتحانی نظام میں تبدیل کردینا چاہیے۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *